جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے
پوچھو اسی سے جس کے جگر پر ہوں اتنے داغاک عمر کا ریاض تھا جس پر لٹا وہ باغفرصت نہ اب بکا سے ہے فراغجو گھر کی روشنی تھے وہ گل ہو گئے چراغپڑتی تھی دھوپ سب کے تنِ پاش پاش پرچادر بھی اک نہ تھی علی اکبر کی لاش پر
About this couplet
This is couplet 104 of 193 in “جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۰۴ / ۱۹۳