کلامِ انیسمثنویات، مراثی و دیگر

جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے

۱

جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نےجلوہ کیاسحر کے رخِ بے حجاب نےدیکھا سوئے فلک شہ گردوں رکاب نےمڑ کر صدا رفیقوں کو دی اس جناب نےآخر ہے رات حمد و ثنائے خدا کرواٹھو فریضۂ سحریٰ کو ادا کرو

۲

ہاں غازیو یہ دن ہے جدال و قتال کایاں خوں بہے گا آج محمد کی آل کاپرہ خوشی سے سرخ ہے زہرا کے لال کاگذری شبِ فراق دن آیا وصال کاہم وہ ہیں غم کریں گے ملک جن کے واسطےراتیں تڑپ کے کاٹی ہیں اس دن کے واسطے

۳

یہ صبح ہے وہ صبح مبارک ہے جس کی شامیاں سے ہوا جو کوچ تو ہے خلد میں مقامکوثر پہ آبرو سے پہونچ جائیں تشنہ کاملکھے خدا نماز گزاروں ممیں سب کے نامسب ہیں وحیدِ عصر یہ غل چار سو اٹھےدنیا سے جو شہید اٹھے سرخرو اٹھے

۴

یہ سن کے بستروں سے اٹھے وہ خدا شناساک اک نے زیبِ جسم کیا فاخرہ لباسشانے محاسنوں میں کیے سب نے بے ہراسباندھے عمامہ آئے امامِ زماں کے پاسرنگیں عبائین دوش پہ کمریں کسے ہوےمشک و زبا دو عرت میں کپڑے بسے ہوئے

۵

سوکھے بسوں پہ حمدِ الٰہی رخوں پہ نورخوف و ہراس رنج و کدورت دلوں سے دورفیاض حق شناس اولو العزم ذی شعورخوش فکر و بزلہ سنج و ہنر پرور و غیورکانوں کو حسنِ صوت سے حظ برملا ملےباتوں میں وہ نمک کہ دلوں کو مزا ملے

۶

ساونت برد بار فلک مرتبت دلیرعالی منش سبا میں سلیماں وغا میں شہگرداں دہر ان کی زبردستیوں سے زیرفاقے سے تین دن کے مگر زندگی سے سیہدنیا کو ہیچ پوچ سراپا سمجھتے ہیںدریا دلی سے بحر کو قطرا سمجھتے ہیں

۷

تقریر میں وہ رمز کنایہ کہ لاجوابنکتہ بھی منہ سے گر کوئی نکلا تو انتخابگویا دہن کتابِ بلاغت کا ایک بابسوکھی زبانیں شہد فصاحت سے کامیابلہجوں پہ شاعران عبر تھے مرے ہوئےپستے بسوں کے وہ کہ نمک سے بھرے ہوئے

۸

لب پر ہنسی گلوں سے زیادہ شگفتہ روپیدا تنوں س پیرہن یوسفی کی بوغلماں کے دل میں جن کی غلامی کی آرزوپرہیز گار زاہدِ ابرار و نیک خوپتھر میں ایسے لعل صدف میں گہر نہیںروں کا قول تھا کہ ملک ہیں بشر نہیں

۹

پانی نہ تھا وضو جو کریں وہ فلک مآبپر تھی رخوں پہ خاکِ تمیم سے طرفہ آبباریک ابر میں نظر آتے تھے آفتابہوتے ہیں خاکسار غلامِ ابوترابمہتاب سے رخوں کی صفا اور ہو گئیمٹی یس آئتوں میں جلا اور ہو گئی

۱۰

خیمے سے نکلے شہ کے عزیزاں خوش خصالجن میں کئی تھے حضرتِ خیر النسا کے لالقاسم سا گلبدن علی اکبر سا خوش جمالاک جا عقیل و مسلم و جعفر کے نونہالسب کے رخوں کا نور سپہر بریں پہ تھااٹھارہ آفتابوں کا غنچہ زمیں پہ تھا

۱۱

ٹھنڈی ہوا میں سبزۂ صحرا کی وہ لہکشرمائے جس سے اطلسِ زنگاریِ فلکوہ جھومنا درختوں کا پھولوں کی وہ مہکہر برگِ گل پہ قطرہ شبنم کی وہ جھلکہیرے خجل تھے گوہر یکتا نثار تھےپتے بھی ہر شجر کے جواہر نگار تھے

۱۲

قرباں صنعتِ قلم آفریدگارتھی ہر ورق پہ صنعتِ ترصیع آشکارعاجز ہے فکرت شعرائے ہند شعاران صنعتوں کو پائے کہاں عقلِ سادہ کارعالم تھا محو قدرت رب عباد پرمینا کیا تھا وادیِ مینو سواد پر

۱۳

وہ نور اور وہ دشت سہانا وہ فضادراج و کیک و تیہود طاؤس کی صداوہ جوشِ گل وہ نالۂ مرغانِ خوش نواسردی جگر کو بخشی تھی صبح کی ہواپھولوں سے سبز سبز شجر سرخ پوش تھےتھا لے بھی نخل کے سبدِ گل فروش تھے

۱۴

وہ دشت وہ نسیم کے جھونکے وہ سبزہ زارپھولوں پہ جابجا وہ گہرہائے آبداراٹھتا وہ جھوم جوھم کے شاخوں کا بارباربالائے نخل ایک جو بلبل تو گل ہزارخواہاں تھے زہرا گلشن زہرا جو آب کےشبنم نے بھر دیے تھے کٹورے گلاب کے

۱۵

وہ قمریوں کا چار طرف سرو کے ہجومکو کو کا شور نالۂ حق سرہ کی دھومسبحان رہنا کی صدا تھی علی العمومجاری تھے وہ جو ان کی عبادت کے تھے رسومکچھ گل فقط نہ کرتے تھے رب علا کی حمدہر خار کو بھی نوکِ زباں تھی خدا کی حمد

۱۶

چیونٹی بھی ہاتھ اٹھا کے یہ کہتی تھی بار باراے دانہ کش ضعیفوں کے رازق ترے نثاریا حی یاقدیر کی تھی ہر طرف پکارتہلیل تھی کہیں کہیں تسبیح کردگارطائر ہوا میں محو ہنر سبزہ زار میںجنگل کے شیر گونج رہے تھے کچھار میں

۱۷

کانٹوں میں اک طرف تھے ریاضِ نبی کے پھولخوشبو سے جن کی خلد تھا جنگل کا عرض و طولدنیا کی زیب و زینتِ کا شانۂ بتولوہ باغ تھا لگا گئے تھے خود جسے رسولماہِ عزا کے عشرۂ اول میں کب گیاوہ باغیوں کے ہاتھ سے جنگل میں کٹ گیا

۱۸

اللہ رے خزاں کے دن اس باغ کی بہارپھولے سماتے تھے نہ محمد کے گلِ عذاردولہا بنے ہوئے تھے اجل تھی گلوں کا ہارجاگے وہ ساری رات کے وہ نیند کا خمارراہیں تمام جسم کی خوشبو سے بس گئیںجب مسکرا کے پھولوں کلیاں بکس گئیں

۱۹

وہ دشت اور خیمۂ زنگارگوں کی شانگویا زمیں پہ نصب تھا اک تازہ آسمانبے چوبہ سپہر بریں جس کا سائبانبیت العیق دین کا مدینہ جہاں کی جاناللہ کے حبیب کے پیارے اسی میں تھےسب عرشِ کبریا کے ستارے اسی میں تھے

۲۰

گردوں پہ ناز کرتی تھی اس دشت کی زمیںکہتا تھا آسمانِ دہم چرخ ہضمتیںپردے تھے رشک پردۂ چشمانِ حور میںتاروں سے تھا فلک اسی خرمن کا خوشہ چیںدیکھا جو نور شمسۂ کیواں جناب پرکیا کیا ہنسی ہے صبحِ گل آفتاب پر

۲۱

ناگاہ چرخ پر خطِ ابیض ہوا عیاںتشریف جا نماز پہ لائے شہ زماں

۲۲

سجاد بچھ گئے عقبِ شاہ انس و جاںتاروں سے تھا فلک اسی خرمن کا خوشہ چیں

۲۳

دیکھا جو نور شمسۂ حسن سے اکبرِ مہر و نے دی اذاںہر اک کی چشم آنسوؤں سے ڈبڈبا گئیگویا صدا رسول کی کانوں میں آگئی

۲۴

چپ تھے طیور جھومتے تھے وجد میں شجرتسبیح خواں تھے برگ و گل غنچہ و ثمرمحوِ ثنا کلوخ دنبا تات و دشت دورپانی سے منہ نکالے تھے دریا کے جانوراعجاز تھا کہ دلبِ شپیر کی صداہر خشک و تر سے آئی تھی تکبیر کی صدا

۲۵

ناموس شاہ روتے تھے خیمے میں زار زارچپکی کھڑی تھی صحن میں بانو کے نامدارزینب بلائیں لے کے یہ کہتی تھی بار بارصدقے نمازیوں کے مؤذن کے میں نثارکرتے ہیں یوں ثنا وصف ذوالجلال کیلوگوں اذا سنو مرے یوسف جمال کی

۲۶

یہ حسنِ صوت اور یہ قرأت یہ شدو مدحقا کہ افصح الفصحا ہے انہیں کا جدگویا ہے لحن حضرتِ داؤد با خردیارب رکھ اس صدا کو زمانے میں تا ابدشعبے صدا میں پنکھڑیاں جیسے پھول میںبلبل چہک رہا ہے ریاضِ رسول میں

۲۷

میری طرف سے کوئی بلائیں تو لینے جائےعین الکمال سے تجھے بچے خدا بچائےوہ لو ذعی کی جس کی طلاقت دلوں کو بھائےدو دد دن ایک بوند بھی پانی کہ وہ نہ پائےغربت میں پڑ گئی ہے مصیبت حسین پرفاقہ یہ تیسرا ہے مرے نورِ عین پر

۲۸

صف میں ہوا جو نعرۂ قدقامت الصلوٰۃقائم ہوئی نامز اٹھے شاہِ کائناتوہ نور کی صفیں وہ مصلی ملک صفاتقدموں سے جن کی ملتی تھی آنکھیں رہِ نجاتجلوہ تھا تابہ عرشِ معلیٰ حسین کامصحف کی لوح تھی کہ مصلی حسین کا

۲۹

اک صف میں سب محمد و حیدر کے رشتہ داراٹھارہ نوجواں تھے اگر کیجیے شمارپر سب جگر نگار حق آگاہ خاکسارپیرہ امام پاک کے داتائے رونارتسبیح ہر طرف تہ افلاک انہیں کی ہےجس پر درورد پڑھتے ہیں یہ خاک انہیں کی ہے

۳۰

دنیا سے اٹھ گیا وہ قیام اور وہ قعودان کے لیے تھی بندگی واجب الوجودوہ عجز وہ طویل رکوع اور وہ سجودطاعت میں نیست جانتے تھے اپنی ہست و بودطاقت نہ چلنے پھرنے کی تھی ہاتھ پاؤں میںگر گر کے سجدے کر گئے تیغوں کی چھاؤں میں

۳۱

ہاتھ ان کے جب قنوت میں اٹھے سوئے خداخود ہوگئے فلک پہ اچابت کے باب واتھرائے آسماں بلا عرش کبریاشہ پر تھے دونوں ہاتھ پے طائر دعاوہ خاکسار محوِ تضرع تھے فرش پرروح القدس کی طرح دعائیں تھیں عرش پر

۳۲

فارغ ہوئے نماز سے جب قبلۂ انامآئے مصافحے کو جو انان تشنہ کامچومے کسی نے دستِ شہنشاہ خاص و عامآنکھٰں ملیں قدم پہ کسی نے با حترامکیا دل تھے کیا سپاہِ رشید و سعید تھیباہم مانقے تھے کہ مرنے کی عید تھی

۳۳

بیٹھے تھے جا نماز پہ شاہِ فلک سریرناگہ قریب آ کے گرے تین چار تیردیکھا ہر اک نے مڑ کے سوئے لشکرِ شریرعباس اٹھے تول کے شمشیر بے نظیرپروانہ تھے سراج امامت کے نور پرروکی سپر حضور کرامت ظہور پر

۳۴

اکرب سے مڑکے کہنے لگے سرورِ زماںتم جا کے کہہ دو خیمے میں یہ اے پدر کی جاںباندھے ہے سر کشی پر کمر لشکرِ گراںبچوں کو لے کے صحن سے ہٹ جائیں بیبیاںغفات میں تیرے کوئی بچہ تلف نہ ہوڈر ہے مجھے کہ گردنِ اصغر ہدف نہ ہو

۳۵

کہتے تھے یہ پسر سے شۂ آسماں سریرفضہ پکاری ڈیوڑھی سے اے خلق کے امیرہے ہے علی کی بیٹیاں کس جا ہوں گو شہ گیراصغر کے گاہوارے تک آکر گرے ہیں تیرگرمی میں ساری رات یہ گھٹ گھٹ کے روئے ہیںبچے ابھی تو سرد ہوا پا کے سوئے ہیں

۳۶

باقر کہیں پڑا ہے سکینہ کہیں ہے غشگرمی کی فصل یہ تب و تاب اور یہ عطشرو رو کے سو گئے ہیں صغیر ان ماہ وشبچوں کو لے کے یاں سے کہاں جائیں فاقہ کشیہ کس خطا پہ تیر پیا پے برستے ہیںٹھنڈی ہوا کے واسطے بچے ترستے ہیں

۳۷

ٹھے یہ شور سن کے امامِ فلک وقارڈیوڑھی تک آئے تک ڈھالوں کو رد کے رفیق و یارفرمایا مڑکے چلتے ہیں اب بہرِ کارزارکمریں کسو جہاد پہ منگواؤ راہواردیکھیں فضا بہشت کی دل باغ باغ ہوامت کے کام سے کہیں جلدی فراغ ہو

۳۸

فرما کے یہ حرم میں گئے شاہِ بحروبرہونے لگیں صفوں میں کمر بندیاں ادھرجو شن پہن کے حضرتِ عباس ناموردروازے پہ ٹہلنے لگے مثلِ شیرِ نرپرتو سے رخ کے برق چمکتی تھی پاک پرتلوار ہاتھ میں تھی سپرِ دوش پاک پر

۳۹

شوکت میں رشک تاج سلیمان تھا خودِ سرکلغی پہ لاکھ بار تصدق ہما کے پردستانے دونوں فتح کا مسکن ظفر کا گھروہ رعب الامان وہ تہور کہ الحذرجب ایسا بھائی ظلم کی تیغوں میں آر ہوپھر کس طرح نہ بھائی کی چھاتی پہاڑ ہو

۴۰

خیمے میں جا کے شہ نے یہ دیکھا حرم کا حالچہرے تو فق ہیں اور کھلے ہیں سردوں کے بالزینب کی یہ دعا ہے کہ اے رب ذوالجلالبچ جائے اس فساد سے خیر النسا کا لالبانوئے نیک نام کی کھیتی ہری رہےصندل سے مانگ بچوں سے گودی بھری رہے

۴۱

آفت میں ہے مسافرِ صحرائے کربالبے کس پہ یہ چڑھائی ہے سید پہ یہ جفاغربت میں ٹھن گئی جو لڑائے تو ہوگا کیاان ننھے ننھے بچوں پہ کر رہ اے خدافاقوں سے جاں بلب ہیں عطش سے ہلاکِ ہیںیارب ترے رسول کی ہم آلِ پاک ہیں

۴۲

سر پر نہ اب علی نہ رسولِ فلک وقارگھر لٹ گیا گذر گئیں خاتونِ روزگاراماں کے بعد روئی حصن کو میں سوگاردنیا میں اب حسین ہے ان سب کا یادگارتو داد دے مری کہ عدالت پناہ ہےکچھ اس پہ بن گئی تو یہ مجمع تباہ

۴۳

بولے قریب جا کے شہِ آسماں جنابمضطر نہ ہو دعائیں ہیں تم سب کی مستجابمغرور ہیں خطا پہ ہیں یہ خانماں خرابخود جا کے میں دکھاتا ہوں ان کو رہِ صوابموقع بہن نہیں ابھی فریاد و آہ کالاؤ تبرکات رسالت پناہ کا

۴۴

معراج میں رسول نے پہنا تھا جو لباسکشتی میں لائیں زینب اسے شاہِ دیں کے پاسسر پر رکھا عمامۂ سردارِ حق شناسپہنی قبائے پاکِ رسول فلک اساسبرمیں درست و چست تھا جامہ رسول کارومال فاطمہ کا عمامہ رسول کا

۴۵

شملے دو سرے جو پڑے تھے بصد وقارثابت یہ تھا کہ دوش پہ گیسو پڑے ہیں چاربل کھا رہا تھا زلفِ سمن بو کا تار تارجس کے ہر ایک مو پہ خطا و ختن نثارمشک و عبیر و عود اگر ہیں تو ہیچ ہیںسنبل پہ کیا کھلیں گے یہ گیسو کے پیچ میں

۴۶

کپڑوں سے آ رہی تھی رسولِ زمن کی بودولھا نے سونگھی ہوگی نہ ایسی دلہن کو بیحیدر کی فاطمہ کی حسین و حسن کی بوپھیلی ہوئی تھی چار طرف پنجتن کی بولٹتا تھا عطر دادیِ عنبر سرشت میںگل جھومتے تھے اغ میں رضواں بہشت میں

۴۷

پوشاک سب پہن چکے جس دم شۂ زمنلیکر بلائیں بھائی کی رونے لگی بہنچلائی ہائے آج نہیں حیدر و حسناماں کہاں سے لائے تمہیں اب یہ بے وطنرخصت ہے اب رسول کے یوسف جمال کیصدقے گئی بلائیں تولو اپنے لال کی

۴۸

صندوق اسلحہ کے جو کھلوائے شاہ نےپیٹا منہ اپنا زینبِ عصمت پناہ نےپہنی زرہ امامِ فلک بارگاہ نےبازو پہ جو شنین پڑھے عزو جاہ نےجوہر بدن کے حسن سے سارے چمک گئےحلقے تھے جتنے اتنے سارے چمک گئے

۴۹

یاد آگئے علی نظر آئی جو ذوالفقارقبضے کو چوم کر شۂ دیں روئے زار زارتولی جو لے کے ہاتھ میں شمشیرِ آبدارشوکت نے دی صدا کہ تری شان کے نثارفتح و ظفر قریب ہو نصرت قریب ہوزیب اس کی تجھ کو ضرب عدو کو نصیب ہو

۵۰

باندھی کمر سے تیغ جو زہرا کے لال نےپھاڑا فلک پہ اپنا گریباں ہلال نےدستانے پہنے سرورِ قدسی خصال نےمعراج پائی دوش پہ حمزہ کی ڈھال نےرتبہ بلند تھا کہ سعادت نشان تھیساری سپر میں مہر نبوت کی شان تھی

۵۱

ہتھیار ادھر لگا چکے آقائے خاص و عامتیار ادھر ہوا علم سید انامکھولے سروں کو گرد تھی سیدانیاں تمامروتی تھی تھامے چوب علم خواہرِ امامتیغیں کمر میں دوش پہ شملے پڑے ہوئےزینب کے لال زیر علم آکھڑے ہوئے

۵۲

گردانے دامنوں کو قبا کے وہ گل عذارمرفق تک آشینوں کو الٹے بصد و قارجعفر کا رعب دبدبۂ شیر کردگاربوٹے سے ان کے قد پہ نمودار و نامدارآنکھیں ملٰن علم کے پھریرے کو چوم کےرایت کے گرد پھرنے لگے جھوم جھوم کے

۵۳

گہ ماں کو دیکھتے تھے گہ جانبِ علمنعرہ کبھی یہ تھا کہ نثارِ شۂ اممکرتے تھے دونوں بھائی کبھی مشورے بہمآہستہ پوچھتے کبھی ماں سے وہ ذی حشمکیا قصد ہے علی ولی کے نشان کااماں کسے ملے گا علم نانا جان کا

۵۴

کچھ مشورہ کریں جو شہنشاہ خوش خصالہم بھی محق ہیں آپ کو اس کار ہے خیالپاس ادب سے عرض کی ہم کو نہیں مجالاس کا بھی خوف ہے کہ نہ ہو آپ کو ملالآقا کے ہم غلام ہیں اور جانثار ہیںعزت طلب ہیں نام کے امیدوار ہیں

۵۵

بے مثل تھے رسول کے لشکر کے سب جواںلیکن ہمارے جسد کو نبی نے دیا نشاںخیبر میں دیکھتا رہا منہ لشکرِ گراںپایا علم علی نے مگر وقتِ امتحاںطاقت میں کچھ کمی نہیں گو بھوکے پیاسے ہیںپوتے انہیں کے ہم ہیں انہیں کے نواسے ہیں

۵۶

زینب نے تب کہا تمہیں اس سے کیا ہے کامکیا دخل مجھ کو مالک و مختار ہیں امامدیکھو نہ کیجو بے ادبانہ کوئی کلامبگڑوں گی میں جو لوگے ظلم کا زباں سے ناملو جاؤ بس کھڑے ہو الگ ہاتھ جوڑ کےکیوں آئے ہو یہاں علی اکبر کو چھوڑ کے

۵۷

سر کو، ہٹو، بڑھو، نہ کھڑے ہو علم کے پاسایسا نہ ہو کہ دیکھ لیں شاہ فلک اساسکھوتے ہو اور آئے ہو تم مرے حواسبس قابل قبول نہیں ہے یہ التماسرونے لگوگے تم جو برا یا بھلا کہوںاس ضد کو بچنے کے سوا اور کیا کہوں

۵۸

عمریں قلیل اور ہوس منصب جلیلاچھا نکالو قد کے بھی بڑھنے کی کچھ سبیلماں صدقے جائے گرچہ یہ ہمت کی ہے دلیلہاں اپنے ہم سنوں میں تمہارا نہیں عدیللازم ہے سوچے غور کرے پیش و پس کرےجو ہو سکے نہ کیوں بشر اس کی ہوس کرے

۵۹

ان ننھے منھے ہاتھوں سے اٹھے گا یہ علمچھوٹے قدوں میں سب سے سنوں میں سبھوں سے کمنکلیں تنوں سے سبط نبی کے قدم پہ قدمعہدہ یہی ہے بس یہی منصب یہ حشمرخصت طلب اگر ہو تو یہ میرا کام ہےماں صدقے جائے آج تو مرنے میں نام ہے

۶۰

پھر تم کو کیا بزرگ تھے گر فخرِ روزگارزیبا نہیں ہے جو وصفِ اضافی افتخارجو ہر وہ ہیں جو تیغ کرے آپ آشکاردکھلا دو آج حیدر و جعفر کی کارزارتم کیوں کہو کہ لالہ خدا کے ولی کے ہیںفوجیں پکاریں خود کہ نواسے علی کے ہیں

۶۱

کیا کچھ علم سے جعفر طیار کا تھا نامیہ بھی تھی اک عطائے رسول فلک مقامبگڑی لڑائیوں میں بن آئے انہیں سے کامجب کھینچتے تھے تیغ تو ہلتا تھا روم و شامبے جاں ہوئے تو نخل وغانے ثمر دیےہاتھوں بدلے حق نے جواہر کے پردے

۶۲

لشکر نے تین روز ہزیمت اٹھائی جببخشا علم رسول خدا نے علی کو تبمرحب کو قتل کرکے بڑھا جب وہ شیر ربدربند کرکے قلعہ کا بھاگی سپاہ سباکھڑا وہ یوں گراں تھا جودر سنگِ سخت سےجس طرح توڑ لے کوئی پتا درخت سے

۶۳

نرغے میں تین دن سے ہے مشکل کشا کا لالاماں کا باغ ہوتا ہے جنگل میں پائمالپوچھا نہ یہ کہ کھولے ہیں تم نے سر کے بالمیں لٹ رہی ہوں اور تمہیں منصب کا ہے خیالغم خوار تم مرے ہو نہ عاشق امام کےمعلوم ہو گیا مجھے طالب ہو نام کے

۶۴

ہاتھوں کو جوڑ جوڑ کے بولے وہ لالہ فامغصے کو آپ تما لیں اے خواہر امامواللہ کیا مجال جواب لین علم کا نامکھل جائے گا لڑیں گے جو یہ با وفا غلامفوجیں بھگا کے گنجِ شہیداں میں سوئیں گےتب قدر ہوگی آپ کو جب ہم نہ ہوئیں گے

۶۵

یہ کہہ کے بس ہٹے جو سعادت نشاں پسرچھاتی بھر آئی ماں نے کہا تھا کہ جگردیتے ہو اپنے مرنے کی پایرو مجھے خبرٹھہرو ذرا بلائیں تو لے لے یہ نوحہ گرکیا صدقے جاؤں ماں کی نصیحت بری لگیبچو یہ کیا کہا کہ جگر پر چھری لگی

۶۶

زینب کے پاس آکے یہ بولے شۂ زمنکیوں تم نے دونوں بیٹوں کو باتیں سنیں بہنشیروں کے شیر عاقل و جرار و صف شکنزینب وحید عصر ہیں دونوں یہ گل بدنیوں دیکھنے کو سب میں بزرگوں کے طور ہیںتیور ہی ان کے اور ارادے ہی اور ہیں

۶۷

نو دس برس کے سن یہ جرأت یہ ولولےبچے کسی نے دیکھے ہیں ایسے بھی من چلےاقبال کیونکہ ار کے نہ قدموں سے منہ ملےکس گود میں بڑے ہوئے کس دودھ سے پلےبے شک یہ ورثہ دارِ جنابِ امیر ہیںپر کیا کہوں کہ دونوں کی عمریں صغیر ہیں

۶۸

اب تم جسے کہو اسے دیں فوج کا علمکی عرض جو صلاح شۂ آسماں حشمفرمایا جب سے اٹھ گئیں زہرائے باکرماس دن سے تم کو ماں کی جگہ جانتے ہیں ہممالک ہو تم بزرگ کوئی ہو کہ خرد ہوجس کہو اسی کو یہ عہدہ سپرد ہو

۶۹

بولیں بہن کہپ آپ بھی تولیں کسی کا نامہے کس طرف توجہ سردار خاص و عامگر مجھ سے پوچھتے ہیں شۂ آسماں مقامقرآں کے بعد ہے تو ہے بس آپ کا کلامشوکت میں قد میں شان میں ہم کسر کوئی نہیںعباس نام دار سے بہتر کوئی نہیں

۷۰

عاشق غلام خادمِ دیرینہ جاں نثارفرزند بھائی زینتِ پہلو وفا شعارجرار یادگارِ پدر فخر روزگارراحت رساں مطیع نمودار نام دارصفدر ہے شیر دل ہے بہادر ہے نیک ہےبے مثل سیکڑوں میں ہزاروں میں ایک ہے

۷۱

آنکھوں میں اشک بھر کے یہ بولے شہ رمنہاں تھی یہی علی کی وصیت ابھی اے بہناچھا بلائیں آپ کدھر ہے وہ صف شکناکبر چچا کے پاس گئے سن کے یہ سخنکی عرض انتظار ہے شاہِ غیور کوچلیے پھوپھی نے یاد کیا ہے حضور کو

۷۲

عباس آئے ہاتھوں کو جوڑے حضورِ شاہجاؤ بہن کے پاس یہ بولا وہ دیں پناہزینب وہیں علم لیے آئیں بہ عزو جاہبولے نشاں کے لے کے شۂ عرش بارگاہان کی خوشی وہ ہے جو رضا پنجتن کی ہےلو بھائی لو علم پہ عنایت بہن کی ہے

۷۳

رکھ کر علم پہ ہاتھ جھکا وہ فلک وقارہمشیر کے قدم پہ ملا منہ بہ افتخارزینب بلائیں لے کے یہ بولیں کہ میں نثارعباس فاطمہ کی کمائی سے ہوشیارہو جائے آج صلح کی صورت تو کل چلوان آفتوں سے بھائی کو لے کر نکل چلو

۷۴

کی عرض میرے جس پہ جس وقت تک ہے سرممکن نہیں ہے یہہ کہ بڑے فوج بد گہرتیغیں کھنچیں جو لاکھ تو سینہ کروں سپردیکھیں اٹھا کے آنکھ یہ کیا تاب کیا جگرساونت ہیں پسر اسدِ ذوالجلال کےگر شیر ہو تو پھینک دیں آنکھیں نکال کے

۷۵

منہ کر کے سوئے قبرِ علی پھر کیا خطابذرے کو آج کردیا مولا نے آفتابیہ عرض خاکسار کی ہے یا ابوترابآقا کے آگے میں ہوں شہادت سے کامیابسر تن سے ابنِ فاطمہ کے رو برو گرےشپیر کے پسینے پہ میرا لہو گرے

۷۶

یہ سن کے آئی زوجہ عباس نامورشوہر کی سمت پہلے کنکھیوں سے کی نظرلیں سبط مصطفیٰ کی بلائین بچشمِ ترزینب کے گرد پھر کے یہ بولی وہ نوحہ گرفیض آپ کا ہے اور تصدق امام کاعزت بڑھی کنیز کی رتبہ غلام کا

۷۷

سر کو لگا کے چھاتی زینب نے یہ کہاتو اپنی مانگ کوکھ سے ٹھنڈی رہے سداکی عرض مجھ سے لاکھ کنیزیں تو ہوں فدبانوے نامور کہ سہاگن رکھے خدابچے جییں ترقیِ اقبال و جاہ ہوسائے میں آپ کے علی اکبر کا بیاہ ہو

۷۸

قسمت وطن میں خیر سے پھر شہ کو لے کے جاہیہ شرب میں شور ہو کہ سفر سے حسین آئےام البنین جاہ و حشم سے پسر کو پائےجلدی شبِ عروسیِ اکبر خدا دکھائےمہندی تمہارا لال ملے ہاتھ پاؤں میںلاؤ دلہن کو بیاہ کے تاروں کی چھاؤں میں

۷۹

ناگاہ آ کے بالی سکینہ نے یہ کہاکیسا ہے یہ ہجوم کدھر ہیں مرے چچاعہدہ علم کا ان کو مبارک کرے خدالوگو مجھے بلائیں تو لینے دوا اک ذراشوقت خدا بڑھائے مرے عمو جان کیمیں بھی تو دیکھوں شان علی کے نشان کی

۸۰

عباس مسکراکے پکارے کہ آؤ آؤعمو نچار پیاس سے کیا حال ہے بتاؤبولی لپٹ کے وہ کہ مری مشک لیتے جاؤاب تو علم ملا تمہیں پانی مجھے پلاؤتحفہ کوئی نہ دیجیے نہ انعام دیجیےقربان جاؤں پانی کا جام دیجیے

۸۱

فرمایا آپ نے کہ نہیں فکر کا مقامباتوں پہ اس کی روتی تھیں سیدانیاں تمامکی عرض آکے ابنِ حسن نے کہ یا امامانبوہ ہے بڑھی چلی آتی ہے فوجِ شامعباس اب علم لیے باہر نکلتے ہیںٹھہرو بہن سے مل کے لگے ہم بھی چلتے ہیں

۸۲

ناگہ بڑھے علم لیے عباس باوفادوڑے سب اہلِ بیت کھلے سربرہنہ پاحضرت نے ہاتھ اٹھا کے یہ اک ایک سے کہالو الوداع اے حرم پاک مصطفیصبحِ شبِ فراق ہے پیاروں کو دیکھ لوسب مل کے ڈوبت ہوئے تاروں کو دیکھ لو

۸۳

شہ کے قدم پہ زینبِ زار و حزیں گریبانو بچھاڑ کھا کے پسر کے قریں گریکلثوم تھرتھرا کے بروئے زمیں گریباقر کہیں گرا تو سکینہ کہیں گریاجڑا چمن ہر اک گلِ تازہ نکل گیانکلا علم کہ گھر سے جنازہ نکل گیا

۸۴

دیکھی جو شانِ حضرتِ عباس عرش جاہآگے بڑھی علم کے پس از تہنیت سپاہنکلا حرم سرا سے دو عالم کا بادشاہنشتر بلد تھی بنت علی کی فغا و آہرہ رہ کے اشک بہتے تھے روئے جناب سےشبنم ٹپک رہی تی گل آفتاب سے

۸۵

مولا چڑھے فرس پہ محمد کی شان سےترکش لگایا ہرے نے پہ کس آن بان سےنکلا یہ جن و انس و ملک کی زبان سےاترا ہے پھر زمیں پہ براق آسمان سےسارا چلن خرام میں کبک روی کا ہےگھونگھٹ نئی دلہن کا ہے چہرہ پری کا ہے

۸۶

غصے میں انکھڑیوں کے ابلنے کو دیکھیےجو بن میں جھوم جھوم کے چلنے کو دیکھیےسانچے میں جوڑ بند کے ڈھنلنے کو دیکھیےتم کر کنوتیوں کے بدلنے کو دیکھیےگردن میں ڈالے ہاتھ یہ پریوں کو شوق ہےبالا ودی میں اس کو ہما پر بھی فوق ہے

۸۷

تھم کر ہوا چلی فرسِ خوش قدم بڑھاجوں جوں وہ سوئے دشتِ بڑھا اور دم بڑھاگھوڑوں کی لیں سواروں نے باگیں علم بڑھارایت بڑھا کہ سروِ ریاضِ ارم بڑھاپھولوں کو لے کے بادِ بہاری پہونچ گئیبستانِ کربلا میں سواری پہونچ گئی

۸۸

پنجہ ادھر چمکتا تھا اور آفتاب ادھرآس کی ضیا تھی خاک پہ ضو اس کی عرش پرزر ریزی علم پہ ٹھہرتی نہ تھی نظردولھا کا رخ تھا سونے کے سہرے میں جلوہ گرتھے دو طرف جو دو علم اس ارتقاع کےالجھے ہوئے تھے تار خطوطِ شعاع کے

۸۹

اللہ ری سپاہ خدا کی شکوہ و شاںجھکنے لگے جنود ضلالت کے بھی نشاںکمریں کسے علم کے تلے ہاشمی جواںدنیا کی زیبِ دین کی عزت جہاں کی جاںایک ایک دود ماں علی کا چراغ تھاجس کی بہشت پر تھا تفوق و باغ تھا

۹۰

لڑکے وہ سات آٹھ سہی قد سمن عذارگیسو کسی کے چہرے پہ دو اور کسی کے چارحیدر کا رعب نرگسی آنکھوں سے آشکارکھیلیں جو نیمچوں سے کریں شیر کا شکارنیزوں کے سمت چاند سے سینے تنے ہوئےآئے تھے عیدگاہ میں دولھا بنے ہوئے

۹۱

غرفوں سے حوریں دیکھ کے کرتی تھیں یہ کلامدنیا کا باغ بھی ہے عجب پرفضا مقامدیکھو درود پڑھ کے سوئے لشکرِ امامہم شکلِ مصطفی ہے یہی عرش اختتامرایت لیے وہ لال خدا کے ولی کا ہےاب تک جہاں میں ساتھ نبی و علی کا ہے

۹۲

دنیا سے اٹھ گئے تھے جو پیغمبرِ زماںہم جانتے تھے حسن سے خالی ہے اب جہاںکیونکر سوئے زمیں نہ جھکے پیر آسماںپیدا کیا ہے حق نے عجب حسن کا جواںسب خوبیوں کا خاتمہ بس اس حسیں پہ ہےمحبوب حق ہیں عرش پہ سایہ زمیں پہ ہے

۹۳

ناگاہ تیر ادھر سے چلے جانب، امامنعرے کیے کہ خوف سے ہلنے لگی زمیںنکلے ادھر سے شہ کے رفیقانِ تشنہ کامبے سر ہوئے پرون میں سر ان سپاہ شامبالا کبھی تھی تیغ کبھی زیر تنگ تھیایک اک کی جنگ مالک اشتر کی جنگ تھی

۹۴

نکلے پے جہاد عزیزانِ شاہِ دیںنعرے کیے کہ خوف سے ہلنے لگی زمیںروباہ کی صفوں پہ چلے شیر خشم گیںکھینچی جو تیغ بھول گئے صف کشی لعیںبجلی گری پروں پہ شمال و جنوب کےکیا کیا لڑے ہیں شام کے بادل میں ڈوب کے

۹۵

اللہ رے علی کے نواسوں کی کارزاردونوں کے نیچے تھے کہ چلتی تھی ذوالفقارشانہ کٹا کسی نے جو روکا سپر پہ دارگنتی تھی زخمیوں کی نہ کشتوں کا کچھ شماراتنے سوار قتل کیے تھوڑی دیر میںدونوں کے گھوڑے چھپ گئے لاشوں کے ڈھیر میں

۹۶

وہ چھوٹے چھوٹے ہاتھ وہ گوری کلائیاںآفت کی پھرتیاں تھیں غضب کی صفائیاںڈر ڈر کے کاٹتے تھے کہاں کش کنائیاںفوجوں میں تھیں نبی و علی کی دہائیاںشوکت ہو ہوتھی جنابِ امیر کیطاقت دکھا دی شیروں نے زینب کے شیر کی

۹۷

کس حسن س حسن کا جوانِ حسیں لڑاگھر گھر کے صورت اسد خشم گیں لڑاوہ دن کی بھول پیاس میں وہ مہ جبیں لڑاسہرا الٹ کے یوں کوئی دولھا نہیں لڑاحملے دکھادیے اسدِ کردگار کےمقتل میں سوئے ازرق شامی کو مار کے

۹۸

چمکی جو تیغِ حضرت عباس عرش جاہروح الامیں پکارکے اللہ کی پناہڈھالوں میں چھپ گیا پسرِ سعد روسیاہکشتوں سے بند ہو گی امن و اماں کی راہچھٹا جو شیر شوق میں دریا کی سیر کےلے لی ترائی تیغوں کی موجوں میں تیر کے

۹۹

بے سر ہوئے موکلِ چشمہ فراتہل چل میں مثلِ موج صفوں کو نہ تھا ثباتدریا مین گر کے فوت ہوئے کتنے بد صفاتگویا حباب ہو گئے تھے نقطۂ نباتعباس بھر کے مشک کو یاں تشنہ لب لڑےجس طرح نہر واں میں امیرِ عرب لڑے

۱۰۰

آفت بھی حرب و ضرب علی اکبر دلیرغصے میں جھپٹے صید پہ جیسے گرسنہ شیرسب سر بلند پست زبردست سب تھے زیرجنگل میں چار سمت ہوئے زخمیوں کے دھیرسر ان کے اترے تن سے جو تھے رن چڑھے ہوئےعباس سے بھی جنگ میں کچھ تھے بڑھے ہوئے

۱۰۱

تلواریں برسیں صبح سے نصف النہار تکہلتی رہی زمین لرزتے رہے فلککانپا کیے پروں کو سمیٹے ہوئے ملکنعرے نہ پھیر وہ تھے نہ وہ تیغوں کی تھی چمکڈھالوں کا دور برچھیوں کا اوج ہوگیاہنگامِ ظہر خاتمہ فوج ہوگیا

۱۰۲

لاشے سبھوں کے سبطِ نبی خود اٹھا کے لائےقاتل کسی شہید کا سر کاٹنے نہ پائےدشمن کو بھی نہ دوست کی فرقت خدا دکھائےفرماتے تھے بچھڑ گئے سب ہم سے ہائے ہائےاتنے پہاڑ گر پڑیں جس پر وہ خم نہ ہوگر سو برس جیوں تو یہ مجمع بہم نہ ہو

۱۰۳

لاشے تو سب کے گرد تھے اور بیچ میں امامڈوبی ہوئی تھی خوں میں نبی کی قبا تمامافسردہ و حزیں و پریشان و تشنہ کامبرچھی تھی دل کو فتح کے باجوں کی دھوم دھاماعدا کسی شہید کا جب نام لیتے تھےتھرا کے دونوں ہاتھوں سے دل تھام لیتے تھے

۱۰۴

پوچھو اسی سے جس کے جگر پر ہوں اتنے داغاک عمر کا ریاض تھا جس پر لٹا وہ باغفرصت نہ اب بکا سے ہے فراغجو گھر کی روشنی تھے وہ گل ہو گئے چراغپڑتی تھی دھوپ سب کے تنِ پاش پاش پرچادر بھی اک نہ تھی علی اکبر کی لاش پر

۱۰۵

مقتل سے آئے خیمہ کے در پر شہ زمینپر شدِ عطش سے نہ تھی طاقتِ سخنپردے پہ ہاتھ رکھ کے پکارے بصد محناصغر کو گاہوارے سے لے آئے اے بہنپھر ایک بار اس مہ انور کو دیکھ لیںاکبر کے شیرخوار برادر کو دیکھ لیں

۱۰۶

خیمے سے دوڑے آل پیمبر برہنہ سراصغر کو لائیں ہاتھوں پہ بانئے نوحہ گربچے کو لے کے بیٹھ گئے آپ خاک پرمنہ سے ملے جو ہونٹ تو چونکا وہ سیم برغم کی چری چلی جگرِ چاک چاک پربٹھلا لیا حسین نے زانوئے پاک پر

۱۰۷

بچے سے ملتفت تھے شۂ آسماں سریرتھا اس طرف کمیں میں بن کا بل شریرمارا جو تین بھال کا اس بے حیا نے تیربس دفعتاً نشانہ ہوئی گردنِ صغیرتڑپا جو شیرخوار تو حضرت نے آہ کیمعصوم ذبح ہو گیا گودی میں شاہ کی

۱۰۸

جس دم تڑپ کے مر گیا وہ طفلِ شیر خوارچھوٹی سی قبر تیغ سے کھودی بحالِ زاربچے کو دفن کرکے پکارا وہ ذی وقاراے خاکِ پاک حرمتِ مہماں نگاہ داردامن میں رکھ اسے جو محبت علی کی ہےدولت ہے فاطمہ کی امانت علی کی ہے

۱۰۹

یہ کہہ کے آئے فوج پہ تولے ہوئے حسامآنکھیں لہو تھیں رونے سے چہرہ تھا سرخ فامزیبِ بدن گئے تھے بصد عزو احتشامپیراہنِ مطہر پیغمبر انامحمزہ کی ڈھال تیغِ شۂ لافتا کی تھیبرمیں زرہ جناب رسول خدا کی تھی

۱۱۰

رستم تھا درع پوش کہ پاکھر میں راہوارجرار بردبار سبک رو وفا شعارکیا خوشمنا تھا زیں طلا کار و نقرہ کاراکسیر تھا قدم کا جسے مل گیا غبارخوش خو تھا خانہ زاد تھا دلد نژاد تھاشپیر بھی سخی تھے فرس بھی جواد تھا

۱۱۱

گرمی کا روزِ جنگ کی کیونکر کروں بیاںڈر ہے کہ مثلِ شمع نہ جلنے لگے زباںوہ لوں کہ الحذر وہ حرارت کہ الاماںرن کی زمیں تو سرخ تی اور زرد آسماںآبِ خنک کی خلق ترستی تھی خاک پرگویا ہوا سے آگ برستی تھی خاک پر

۱۱۲

وہ دونوں وہ آفتاب کی حدت وہ تاب و تبکالا تھا رنگ دھوپ دن کا مثالِ شبخود نہرِ حلقہ کے سبھی سوکھے ہوئے تھے لبخیمے تھے جو حبابوں کے تپتے تھے سب کے سباڑتی تھی خاک خشک تھا چشمہ حیات کاکھولا ہوا تھا دھوپ سے پانی فرات کا

۱۱۳

جھیلوں سے چارپائے نہ اٹھتے تھے تابہ شاممسکن میں مچھلیوں کے سمندر کا تھا مقامآہو جو کاہلے تھے تو چیتے سیاہ فامپتھر پگھل کے رہ گئے تھے مثلِ مومِ خامسرخی اڑی تھی پھولوں سے سبزہ گیاہ سےپانی کنوؤں میں اترا تھا سائے کی چاہ سے

۱۱۴

کوسوں کسی شجر میں نہ گل تھے نہ برگ و بارایک ایک نخل جل رہا تھا صورتِ چنارہنستا تھا کوئی گل نہ مہکتا تھا سبزہ زارکانٹا ہوئی تھی پھول کی ہر شاخ باردارگرمی یہ تھی کی زیست سے دل سب کے سرد تھےپتے بھی مثل چہرۂ مدقوق زرد تھے

۱۱۵

آبِ رواں سے منہ نہ اٹھاتے تھے جانورجنگل میں چھپتے پھرتے طائر ادھر ادھرمردم تھی سات پروں کے اندر عرق میں ترخسخانۂ مژہ سے نکلتی نہ تھی نظرگرچشم سے نکل کے ٹھہر جائے راہ میںپڑ جائیں لاکھوں آبلے پائے نگاہ میں

۱۱۶

شیر اٹھتے تھے نہ دھوپ کے مارے کچھار سےآہو نہ منہ نکالتے تھے سبزہ زار سےآئینہ مہر کا تھا مکدر غبار سےگردوں کو تپ چڑھی تھی زمیں کے بخار سےگرمی سے مضطرب تھا زمانہ زمین پربھن جاتا تھا جو گرتا تھا دانہ زمین پر

۱۱۷

گرداب پر تھا شعلۂ جوالہ کا گماںانگارے تھے حباب تو پانی شرر فشاںمنہ سے نکل پڑی تھی ہر اک موج کی زباںتہ پہ تھے سب نہنگ مگر تھی بسوں پہ جالپانی تھا آگ گرمئ روزِ حساب تھیماہی جو سیخ موج تک آئی کباب تھی

۱۱۸

آئینہ فلک کو نہ تھی تاب تب کی تابچھپنے کو برق چاہتی تھی دامنِ سحابسب سے ہوا تھا گرم مزاجوں کو اضطرابکافورِ صبح ڈھونڈھتا پھرتا تھا آفتاببھڑکی تھی آگ گنبد چرخِ اثیر میںبادل چھپے تھے سب کرہ زمہریر میں

۱۱۹

اس دھوپ میں کھڑے تھے اکیلے شہ اممنے دامن رسول تھانے سایۂ علمشعلے جگر سے آہ کے اٹھتے تھے دمبدماودے تھے لب زبان میں کانٹے کمر میں خمبے آپ تیسرا تھا جو دن میہمان کوہوتی تھی بات بات میں لکنت زبان کو

۱۲۰

گھوڑوں کو اپنے کرتے تھے سیراب سب سوارآتے تھے اونٹ گھاٹ پہ باندھے ہوئے قطارپیتے تھے آبِ نہر پرند آکے بے شمارسقے زمیں پہ کرتے تھے چھڑکاؤ بار بارپانی کا دام و دد کو پلانا ثواب تھااک ابن فاطمہ کے لیے قحطِ آب تھا

۱۲۱

سر پر لگائے تھا پسرِ سعد چتر زرخادم کئی تھے مروحہ جنباں ادھر ادھرکرتے تھے آب پاش مکرر زمیں کو ترفرزندِ فاطمہ پہ نہ تھا سایۂ شجروہ دھوپ دشت کی وہ جلال آفتاب کاسونلا گیا تھا رنگ مبارک جناب کا

۱۲۲

کہتا تھا ابنِ سعد کہ اے آسماں جناببیعت جو کیجیے اب بھی تو حاضر ہے جامِ آبفرماتے تھے حسین کہ اد خانماں خرابدریا کو خاک جانتا ہے ابنِ بوترابفاسق ہے پاس کچھ تجھے اسلام کا نہیںآبِ بقا ہو یہ تو مرے کام کا نہیں

۱۲۳

کہہ دوں تو خوان لے کے خود آئیں ابھی خلیلچاہوں تو سلسبیل کو دم میں کروں سبیلکیا جام آب کا تو مجھے دے گا اور ذلیلبے آبرو خسیس ستمگردنی بخیلجس پھول پر پڑے ترا سایہ وہ بو نہ دےکھلوائے فصد تو تو یا کبھی رگ لہو نہ دے

۱۲۴

گر جم کا نام لوں تو ابی جام لے کے آئےکوثر یہیں رسول کا احکام لے کے آئےروح الامیں زمیں پہ مرا نام لے کے آئےلشکر ملک کا فتح کا پیغام لے کے آئےچاہوں جو انقلاب تو دنیا تمام ہوالٹے زمین یوں کہ نہ کوفہ نہ شام ہو

۱۲۵

فرما کے یہ نگاہ جو کی سوے ذوالفقارتھرا کے پچھلے پانوں ہٹا وہ ستم شعارمظلوم پر صفوں سے چلے تیر بے شمارآواز کوسِ حرب ہوئی آسماں کے پارنیزے اٹھا کے جنگ پہ اسوار تل گئےکالے نشان فوجِ سیہ رو کے کھل گئے

۱۲۶

وہ دھوم طبلِ جنگ کی وہ بوق کا خروشکر ہو گئے تھے شور سے کرد بیوں کے گوشتھرائی یوں زمیں کہ اڑے آسماں کے ہوشنیزے سے بلا کے نکلے سوار ان درع پوشڈھالیں تھیں یوں سروں پہ سوار ان شوم کےصحرا میں جیسے آئے گھٹا جھوم جھوم کے

۱۲۷

لو پڑھ کے چند شعرِ جز شاہ دیں بڑھےگیتی کے تھام لینے کو روح الامیں بڑھےمانندِ شیرِ نہ کہیں ٹھہرے کہیں بڑھےگویا علی الٹے ہوئے آستیں بڑھےجلوہ دیا جری نے عروسِ مصاف کومشکل کشا کی تیغ نے چھوڑا غلاف کو

۱۲۸

کاٹھی سے اس طرح ہوئی وہ شعلہ خو جداجیسے کنارِ شوق س ہو خوب رو جدامہتاب سے شعاع جدا گل سے بو جداسینے سے دم جدا رگِ جاں سے لہو جداگرجا جو رعد ابر سے بجلی نکل پڑیمحمل میں دم جو گھٹ گیا لیلیٰ نکل پڑی

۱۲۹

آئے حسین یوں کہ عقاب آئے جس طرحآہو پہ شیرِ شہ زہ غاب آئے جس طرحتابندہ برق سوئے سحاب آئے جس طرحدوڑا فرس نشیب میں آب آئے جس طرحیوں تیغِ تیز کوند گئی اس گروہ پربجلی تڑپ کے گرتی ہے جس طرح کوہ پر

۱۳۰

گرمی میں تیغ برق جو چمکی شرر اڑےجھونکا چلا ہوا کا جس سن سے تو سر اڑےپرکالۂ سپر جو ادھر اور ادھر اڑےروح الامیں نے صاف یہ جانا کہ پر اڑےظاہر نشان اسم عزیمت اثر ہوئےجن پر علی لکھا تھا وہی پر سپر ہوئے

۱۳۱

جس پر چلی وہ تیغ دو پارا کیا اسےکھینچتے ہی چار ٹکڑے دوبارا کیا کیاواں تھی جدھر اجل نے اشارا کیا اسےسختی بھی کچھ پڑی تو گوارا کیا اسےنے زین تھا فرس پہ نہ اسوار زین پرکڑیاں زرہ کی بکھری ہوئی تھیں زمین پر

۱۳۲

آئی چمک کے غول پہ جب سر گرا گئیدم میں جمی صفوں کو برابر گرا گئیایک ایک فقر تن کو زمین پر گرا گئیسیل آئی زور شور سے جب گھر گرا گئیآپہونچا اس کے گھاٹ پہ جو مرکے رہ گیادریا لہو کا تیغ کے پانی سے بہ گیا

۱۳۳

یہ آبرو یہ شعلہ فشانی خدا کی شاںپانی میں آگ آگ میں پانی خدا کی شاں

۱۳۴

خاموش اور تیز زبانی خدا کی شاںاستادہ آب میں یہ روانی خدا کی شاں

۱۳۵

لہرائی جب اتر گیا دریا بڑھا ہوالہرائی جب اتر گیا دریا بڑھا ہوانیزوں تھا ذوالفقار کا پانی چڑھا ہوا

۱۳۶

قلب و جناح میمہ و میسرا تباہگردن کشانِ امت خیر الور تباہجنباں زمیں صفیں تہ و بالا پر اتباہبے جان جسم روحِ مسافر سرا تباہبازار بند ہو گئے اکھڑ گئےفوجیں ہوئی تباہ محلے اجڑ گئے

۱۳۷

اللہ ری تیزی و برش اس شعلہ رنگ کیچمکی سوار پر تو خبر لائی تنگ کیپیاسی فقط لہو کی طلب گار جنگ کیحاجت نہ سان کی تی اسے اور نہ سنگ کیخوں سے فلک کو لاشوں سے مقتل کو بھرتی تھیسو بار روم میں چرخ پہ چڑھتی اترتی تھی

۱۳۸

تیغِ خزاں تھی گلشنِ ہستی سے کیا اسےگھر جس خود اجڑ گیا بستی سے کیا اسےوہ حق نما تھی کفر پرستی سے کیا اسےجو آپ سر بلند ہو پستی سے کیا اسےکہتے ہیں راستی جسے وہ خم کے ساتھ ہےتیزی زبان کے ساتھ برش دم کے ساتھ

۱۳۹

سینے پہ چل گئی تو کلیجہ لہوا ہواگویا جگر میں موت کا ناخن فرد ہواچمکی تو الامان کا غل چار سو ہواجو اس کے منہ پہ آگیا بے آبرو ہوارکتا تھا ایک وار نہ دس سے نہ پانچ سےچہرے سیاہ ہو گئے تھے اس کی آنچ سے

۱۴۰

بچھ بچھ گئیں صفوں پہ صفیں وہ جہاں چلیچمکی تو اس طرف ادھر آئی وہاں چلیدونوں طرف کی فوج پکاری کہاں چلیاس نے کہا یہاں وہ پکارا وہاں چلیمنہ کس طرف ہے تیغ زنوں کو خبر نہ تھیسرگر رہے تھے اور تنوں کو خبر نہ تھی

۱۴۱

دشمن جو گھاٹ پر تھے وہ دھوتے تھے جاں سے ہاتھگردن سے سر الگ تھا جدا تھے نشاں سے ہاتھتوڑا کببھی جگر کبھی چھیدا سناں سے ہاتھجب کٹ کے گر پڑیں تو پھر آئیں کہاں سے ہاتھاب ہاتھ دستیاب نہیں منہ چھپانے کوہاں پاؤں رہ گئے ہیں فقط بھاگ جانے کو

۱۴۲

اللہ رے خوفِ تیغ شہ کائنات کازہرہ تھا آب خوف کے مارے فرات کادریا پہ حال یہ تھا ہر اک بد صفارت کاچارہ فرار کا تھا نہ یارا ثبات کاغل تھا کہ برق گرتی ہے ہر درع پوش پربھاگو خدا کے قہر کا دریا ہے جوش پر

۱۴۳

ہر چند مچھلیاں تھیں زرہ پوش سربسرمنہ کھولے چھپی پھرتی تھیں لیکن ادھر ادھربھاگی تھی موج چھوڑ کے گرداب کی سپرتھے تہ نشیں نہنگ مگر آب تھے جگردریا نہ تھمتا خوف سے اس برق تاب کےلیکن پڑے تھے پاؤں میں چھالے حباب کے

۱۴۴

آیا خدا کا قہر جدرھ سن سے آگئیکانوں میں الاماں کی صدا رن سے آگئیدو کرکے خود زین پہ جو شن سے آگئیکھنچتی ہوئی زمین پہ تو سن سے آگئیبجلی گری جو خاک پہ تیغِ جناب کیآی صدا زمین س یا بوتراب کی

۱۴۵

پس پس کے کشمکش سے کماندار مر گئےچلے تو سب چڑھے رہے بازو اتر گئےگوشے کٹے کمانوں کے تیروں کے پر گئےمقتل میں ہو سکا نہ گذرا گذر گئےدہشت سے ہوش اڑ گئے تھے مرغِ وہم کےسوفار کھول دیتے تھے منہ سہم سہم کے

۱۴۶

تیر افگنی کا جن کی ہر اک شہر میں تھا شورگوشہ کہیں نہ ملتا تھا ان کو سوائے گورتاریک شب میں جن کا نشانہ تھا پائے مورلشکر میں خوف جاں نے انہیں کردیا تھا کورہوش اڑ گئے تھے فوجِ ضلالت نشاں کےپیکاں میں زہ کو رکھتے تھے سوفار جاں کے

۱۴۷

صف پر صفیں پروں پر پرے پیش و پس گرےاسوار پر سوار فرس پر فرس گرےاٹھ کر زمیں سے پانچ جو بھاگے تو دس گرےمخبر پہ پیک پیک پر مرکر گرےٹوٹے پر شکست بنائے ستم ہوئیدنیا میں اس طرح کی بھی افتاد کم ہوئی

۱۴۸

غصے تھا شیرِ شہ زۂ صحرائے کربلاچھوڑے تھا گرگ منزل و ماوائے کربلاتیغ علی تھی معرکہ آرائے کربلاخالی نہ تھی سروں سے کہیں جائے کربلابستی بسی تھی مردوں کے قریے اجاڑ تھےلاشوں کی تھی زمین سروں کے پیاز تھے

۱۴۹

غازی نے رکھ لیا تھا جو شمشیر کے تلےتھی طرفہ کشمکش فلک پیر کے تلےچلے سمٹ کے جاتے تھے رہ گیر کے تلےچھپتی تھی سر جھکا کے کماں تیر کے تلےاس تیغِ بے دریغ کا جلوہ کہاں نہ تھاسہمے تھے سب پہ گوشۃ امن و اماں نہ تھا

۱۵۰

چاروں طرف کمان کیانی کی وہ ترنگرہ رہ کے ابرِشام سے تھی بارشِ خدنگوہ شور و صیحہ ابلق و سرنگوہ لوں وہ آفتاب کی تابندگی وہ جنگپھنکتا تھا دشتِ کیں کوئی دل تھا نہ چین سےاس دن کی تاب و ترب کوی پوچھے حسین سے

۱۵۱

سقے پکارتے تھے یہ مشکیں لیے ادھربازارِ جنگ گرم ہے ڈھلتی ہے دوپہرپیسا جو ہو وہ پانی سے ٹھنڈا کرے جگرمشکوں پہ دور دور کے گرتے تھے اہلِ شرکیا آگ لگ گئی تھی جہانِ خراب کوپیتے تھے سب حسین تڑپتے تھے آب کو

۱۵۲

گرمی میں پیاس تھی کہ پھینکا جاتا تھا جگراف کبھی کہا کبھی چہرے پہ لی سپرآنکھوں میں ٹیس اٹھی جو پڑی دھوپ پر نظرجھپٹے کبھی ادھر کبھی حملہ کیا ادھرکثرت عرق کے قطروں کی تھی روئے پاک پرموتی برستے جاتے تھے مقتل کی خاک پر

۱۵۳

سیراب چھپتے پھرتے تھے پیاسے کی جنگ سےچلتی تھی ایک تیغِ علی لاکھ رنگ سےچمکی جو فرق پر تو نکل آئی تنگ سےرکتی تھی نے سپر سے نہ آہن نہ سنگ سےخالق نے منہ دیا تھا عجب آب و تاب کاخود اس کے سامنے تھا پھپھولا حباب کا

۱۵۴

سہمے ہوئے تھے یوں کہ کسی کو نہ تھی خبرپیکاں کدھر ہے تیر کا مزار ہے کدھرمردم کی کشمکش سے کمانوں کو تھا یہ ڈرگوشوں کی ڈھونڈھتی تھی زمیں پر جھکا کے سرترکش سے کھینچے تیر کوئی یہ جگر نہ تھاسیسر پہ جس نے ہاتھ رکھا تن پہ سر نہ تھا

۱۵۵

گھوڑوں کی وہ تڑپ وہ چمک تیغ تیز کیسوسو صفیں کچل گئین جب جست و خیز کیلاکھوں مین تھی نہ ایک کو طاقت ستیز کیتھی چار سمت دھوم گریزا گریز کیآری جو ہو گئی تھیں وہ سب ذوالفقار سےتیغوں نے منہ پھرا لیے تھے کارزار سے

۱۵۶

گھوڑوں کی جست و خیز سے اٹھا غبار زردگردوں میں مثل شیشہ ساعت بھری تھی گردتودا بنا تھا خاک کا مینائے لاجوردکوسوں سیاہ تار تھا شب وادی نبردپنہاں نظر سے نیرگیتی فروز تھاڈھلتی تھی دوپہر کے نہ شب تھا نہ روز تھا

۱۵۷

اللہ ری لڑائی میں شوکت جناب کیسونلائے رنگ میں تھی ضیا آفتاب کیسوکھیوہ لب کہ پنکھڑیاں تھیں گلاب کیتصیور ذو الجناح پہ تی بو تراب کیہوتا تھا غل جو کرتے تھے نعرے لڑائی میںبھاگو کہ شیر گونج رہا ہے ترائی میں

۱۵۸

پھر تو یہ غل ہوا کہ دہائی حسین کیاللہ کا غضب تھا لڑائی حسین کیدریا حسین کا ہے ترائی حسین کیدنیا حسین کی ہے خدائی حسین کیبیڑا بچایا آپ نے طوفاں سے نوح کااب رحم واسطہ ملے اکبر کی روح کا

۱۵۹

اکبر کا نام سن کے جگر پر لگی سناںآنسو بھر آئے روک لی رہوار کی عناںمڑکر پکارے لاش پسر گوشۂ زماںتم نے نہ دیکھی جنگِ پدر اے پدر کی جاںقسمیں تمہاری روح کی یہ لوگ دیتے ہیںلو اب تو ذوالفقار کو ہم روک لیتے ہیں

۱۶۰

چلایا ہاتھ مار کے زانو پہ ابنِ سعداے وا فضیحاتا یہ ہزیمت ظفر کے بعدزیبا دلاوروں کو نہیں ہے خلافِ وعداک پہلوان یہ سنتے ہی گر جا مثالِ رعدنعرہ کیا کہ کرتا ہوں حملہ امام پراے ابنِ سعد لکھ لے ظفر میرے نام پر

۱۶۱

بالا قدو کلفت و تنو مند و خیرہ سرروئیں تن و سیاہ دروں، آہنی کمرناوک پیام مگر کے تکش اجل کا گھرتیغیں ہزار ٹوٹ گءٰن جس پہ وہ سپردل میں بدی طبیعتِ بد میں بگاڑ تھاگھوڑے پہ تھا شقی کہ ہوا پر پہاڑ تھا

۱۶۲

ساتھ اس کے اور اسی قد و قامت کا ایک پلآنکھیں کبود رنگ سیہ ابرووں پہ بلبدکار بد شعار ستمگار و پرد غلجنگ آزما بھگائے ہوئے لشکروں کے دلبھالے لیے کسے ہوئے کمریں ستیز پرنازاں وہ ضرب گرز پہ یہ تیغ تیز پر

۱۶۳

کھنچ جائے شکلِ حرب وہ تدبیر چاہیےدشمن بھی سب مقر ہوں وہ تقریر چاہیےتیزی زبان میں صورتِ شمشیر چاہیےفولاد کا قلم دمِ تحریر چاہیےنقشہ کھنچے گا صاف صفِ کار زار کاپانی دوات چاہتی ہے ذوالفقار کا

۱۶۴

لشکر میں اضطراب تھا فوجوں میں کھلبلیساونت بے حواس ہراسان دھنی بلیڈر تھا کہ لو حسین بڑھے تیغ اب چلیغل تھا ادھر ہیں مرحب و عنتر ادھر علیکون آج سر بلند ہو اور کون پست ہو؟کس کی ظفر ہو دیکھیے کس کی شکست ہو؟

۱۶۵

آوازی دی یہ ہاتفِ غیبی نے تب کہ ہاںبسم اللہ اے امیر عرب کے سرور جاںاٹھی علی کی تیغ دو دم چاٹ کر زباںبیٹھے درست ہو کے فرس پہ شۂ زماںواں سے وہ شور بخت بڑھا نعرہ مار کےپانی بھر آیا منہ میں ادھر ذوالفقار کے

۱۶۶

لشکر کے سب جواں تھے لڑائی میں جی لڑائےوہ بد نظر تھا آنکھوں میں آنکھیں ادھر گڑائےڈھالیں لڑیں سپاہ کی یا ابر گڑگڑا ئےغصے میں آئے گھوڑے نے کبھی دانت کڑکڑکائےماری جو ٹاپ ڈر کے ہٹے ہر لعیں کے پاؤںماہی پہ ڈگمگائے گادِ زمیں کے پاؤں

۱۶۷

نیزہ ہلا کے شاہ پر آیا وہ خود پسندبشکل کشا کے لال نے کھولے تمام بندتیر و کمالں سے بھی نہ وا جب وہ بہرہ مندچلا ادھر کھنچا کہ چلی تیغ سربلندوہ تیر کٹ گئے جو در آتے تھے سنگ میںگوشے نہ تھے کماں میں منہ پیکاں خدنگ میں

۱۶۸

ظالم اٹھا کے گرز کو آیا جناب پرطاری ہوا غضب خلفِ بوتراب نےمارا جو ہاتھ پاؤں جماکر رکاب پربجلی گری شقی کے سرِ پر عتاب پربد ہاتھ میں شکست ظفر نیک ہاتھ میںہاتھ اڑ کے جا پڑا کئی ہاتھ ایک ہاتھ میں

۱۶۹

کچھ دست پاچہ ہو کے چلا تھا وہ نابکارپنجے سے پر اجل کے کہاں جا سکے شکارواں اس نے با میں ہاتھ میں لی تیغِ آبداریاں سر سے آئی پشت کے فقروں پہ ذوالفقارقرباں تیغِ تیز شۂ نامدار کےدو ٹکڑے تھے سوار کے دو رہوار کے

۱۷۰

پھر دوسرے پہ گزر اٹھا کر پکارے شاہکیوں ضرب ذوالفقار پہ تونے بھی کی نگاہسرشار تھا شرابِ تکبر سے رو سیاہجاتا کہاں کہ موت تو رو کے ہوئے تھی راہغل تھا اسے اجل نے بڑھایا جو گھیر کےلو دوسرا شکار چلا منہ میں شیر کے

۱۷۱

آتا تھا وہ کہ اسپِ شۂ دین پلٹ پڑاثابت ہوا کہ شیرِ گرسنہ جھپٹ پڑاتیغہ شقی نے ڈھال پہ مارا تو پٹ پڑاضربت پڑی کی گنبد دوار پھٹ پڑاپیوندِ صدر زین جرو فرق ہوگیاگھوڑا زمین میں سینے تلک غرق ہوگیا

۱۷۲

پریوں سے قاف چھوٹ گیا اور جنوں سے گھرشیروں سے دشتِ گررگ سے بن اژدوں سے درشاہیں و کبک چھپ گئے اک جا ملا کے سراڑ کر گرے جزیروں میں دریا کے جانورسمٹے پہاڑ منہ کو جا دامن سے ڈھانپ کےسیمرغ نے گرا دیے پر کانپ کانپ کے

۱۷۳

آئی صدائے غیب کہ شپیر مرحبااس ہاتھ کے لیے تھی یہ شمشیر مرحبایہ آبرو یہ جنگ یہ توقیر مرحبادکھلا دی ماں کے دودھ کی تاثیر مرحباغالب کیا خدا نے تجھے کائنات پربس خاتمہ جہاد کا ہے تیری ذات پر

۱۷۴

بس اب نہ کردِ غا کی ہوس اے حسین بسدم بے ہوا میں چند نفس اے حسین بسگرمی سے ہانپتا ہے فرس اے حسین بسوقتِ نمازِ عصر ہے بس اے حسین بسپیاسا لڑا نہیں کوئی یوں اژدھام میںاب اہتمام چاہیے امت کے کام میں

۱۷۵

لبیک کہہ کے تیغ رکی شہ نے میان میںپلٹی سپاہ آئی قیامت جہان میںپر سرکشوں نے تیر ملائے میان میںپھر گل گئے لپٹ کے پھر ہرے نشان میںبیکس حسین ظلم شعاروں میں گھر گئےمولا تمہارے لاکھ سواروں میں گھر گئے

۱۷۶

سینے پہ سامنے سے چلے دس ہزار تیرچھاتی پہ لگ گئے کئی سو ایک بار تیرپہلو کے پار برچھیاں سینے کے پار تیرپڑتے دس جو کھینچتے تھے تن سے چار تیریوں تھے خدنگ ظل الٰہی کے جسم پرجس طرح خانہ ہوتے ہیں ساہی کے جسم پر

۱۷۷

چلتے تھے چار سمت سے بھالے حسین پرٹوٹے ہوئے تھے برچھیوں والے حسین پرقاتل تھے خنجروں کو نکالے حسین پریہ دکھ نبی ک گود کے پالے حسین پرتیرِ ستم نکالنے والا کوئی نہ تھاگرتے تھے اور سنبھالنے والا کوئی نہ تھا

۱۷۸

لاکھوں میں ایک بیکس و دلگیر ہائے ہائےفرزندِ فاطمہ کی یہ توقیر ہائے ہائےبھالے وہ اور وہ پہلو شپیر ہائے ہائےوہ زہر میں بجھائے ہوئے تیر ہائے ہائےغصے میں تھے جو فوج کے سرکش بھرے ہوئےخالی کیے حسین پہ ترکش بھرے ہوئے

۱۷۹

وہ گرد تھے جو بھاگتے تھے وقتِ جنگاک سنگ دل نے پاس سے مارا جبیں پہ سنگصدمے سے زرد ہو گیا سبطِ نبی کا رنگماتھے پہ ہاتھ تھا کہ گلے پر لگا خدنگتھا ما گلا جناب نے ماتھے کو چھوڑ کےنکلا وہ تیری حلقِ مبارک کو توڑ کے

۱۸۰

لکھا ہے تین پھال کا تھا ناوکِ ستممنہ کھل گیا الٹ گئی گردن رکا جو دمکھینچی سری لگے کی طرف سے بچشم نمبھالیں نکالیں پشت کی جانب سے ہو کے خمابلا جو خوں نکلتا ہوا دم شہر گیاچلو رکھا ہو زخم کے نیچے تو بھر گیا

۱۸۱

دشمن تھا شہ کا اعور سلمیٰ عد دے دیںسر پر لگائی تیغ کہ شق ہو گئی جبیںماری جگر پہ ابنِ انس نے ستانِ کیںبھاگا کڑو کے کوکھ میں برچھی کو اک لعیںگھوڑے پہ ڈگمگا کے جو حضرت نے آہ کیتھرا گئی ضریح رسالت پناہ کی

۱۸۲

گرتے ہیں اب حسین فرس پر سے ہے غضبنکلی رکاب پائے مطہر سے ہے غضبپہلو شگافتہ ہوا خنجر سے ہے غضبغش میں جھکے عمامہ گرا سر سے ہے غضبقرآں رحل زیں سے سرِ فرش گر پڑادیوارِ کعبہ بیٹھ گئی عرش گر پڑا

۱۸۳

جنگل سے آئی فاطمہ زہرا کی یہ صداامت نے مجھ کو لوٹ لیا وا محمدااس وقت کون حق محبت کرے اداہے ہے یہ ظلم اور دو عالم کا مقتداانیس سو ہیں زخم تن چاک چاک پرزینب نکل حسین تڑپتا ہے خاک پر

۱۸۴

پردہ الٹ کے بنتِ علی نکلی ننگے سرلرزاں قدم، خمیدہ کمر، غرق خون جگرچاروں طرف پکارتی تھی سر کو پیٹ کراے کربلا بتا، ترا مہمان ہے کدھراماں قدم اب اٹھتے نہیں تشنہ کام کےپہونچا دو الش پر مرے بازو کو تھا کے

۱۸۵

اس وقت سب جہاں مری آنکھوں میں ہے سیاہلوگو! خدا کے واسطے مجھ کو بتاؤ راہسید کدھر تڑپتا ہے اماں کدھر ہیں آہ؟کس سمت ہے نبی کے نواسے کی قتل گاہ؟شعلے دل و جگر سے نکلتے ہیں آہ کےیہ کون نام لیتا ہے میرا کراہ کے

۱۸۶

کس نے صدا یہ دی کہ بہن اس طرف نہ آؤبس اب سفر قریب ہے للہ گھر میں جاؤاب ڈوبتی ہے آل رسولِ خدا کی ناؤیا مرتضیٰ غریبوں کے بیڑے کو تم بچاؤاب چھوڑ یو نہ دشتِ بلا میں حسین کویا فاطمہ چھپا لو روا میں حسین کو

۱۸۷

بنتِ علی تو پیٹتی پھرتی تھی ننگے سرکٹتا تھا نورِ چشم علی کا گلا ادھرزینب کو منع کرتے تھے ہر چند اہلِ شرلیکن وہ دوڑی جاتی تھی تھامے ہوئے جگرپہونچی جو قتل گاہ میں اس روک ٹوک پردیکھا سرِ حسین کو نیزے کی نوک پر

۱۸۸

نیزے کے نیچے جا کے پاری وہ سوگوارسید تری لہو بھری صورت کے میں نثارہے ہے گلے پہ چل گئی بھیا چھری کی دھاربھولے بہن کو اے اسدِ حق کے یادگارصدقے گئی لٹا گئے گھر وعدہ گاہ میںجنبش لبوں کو ہے ابھی یاد آلہ میں

۱۸۹

بھیا سلام کرتی ہے خواہر جواب دوچلا رہی ہے دخترِ حیدر جواب دوسوکھی زبان سے بہرِ پیمبر جواب دوکیونکر جئے گی زینبِ مضطر جواب دوجز مرگ دردِ ہجر کا چارا نہیں کوئیمیرا تو اب جہاں میں سہارا نہیں کوئی

۱۹۰

بھیا میں اب کہاں سے تمہیں لاؤں کیا کروںکیا کہہ کے اپنے دل کو میں سمجھاؤں، کیا کروں؟کس کی دُہائی دوں کسے چلاؤں کیا کروں؟بستی پرائے ہے ، میں کدھر جاؤں کیا کروں؟دنیا تمام اجڑ گئی، ویرانہ ہو گیابیٹھوں کہاں کہ گر تو عزا خانہ ہو گیا

۱۹۱

ہے ہے تمہارے آگے نہ خواہر گذر گئیبھیا بتاؤ کیا تہ خنجر گذر گئی؟آئی صدا نہ پوچھو جو ہم پر گذر گئیصد شکر جو گذر گئی بہتر گذر گئیسر کٹ گیا ہمیں تو الم سے فراغ ہےگرہے تو بس تمہاری جدائی کا داغ ہے

۱۹۲

گھر لوٹنے کو آئے گی اب فوجِ نابکارکہیو نہ کچھ زباں سے، بجز شکرِ کردگارخیمہ میں جب کہ آگ لگادیں ستم شعاررہیو مری یتیم سیکنۂ سے ہوشیاربے زار ہے وہ خستہ جگر اپنی جان سےباندھے نہ کوئی اس کا گلا ریسمان سے

۱۹۳

بس اے انیسؔ ضعف سے لرزاں ہے بند بندعالم کو یادگار رہیں گے یہ چند بندنکلے قلم سے ضعف میں کیا کیا بلند بندعالم پسند بن ہیں سلطان پسند بندیہ فصل اور یہ بزمِ عزا یادگارپیری کے ولولے ہیں خزاں کی بہار ہے

۸۲ / ۹۰