جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے

وہ دونوں وہ آفتاب کی حدت وہ تاب و تبکالا تھا رنگ دھوپ دن کا مثالِ شبخود نہرِ حلقہ کے سبھی سوکھے ہوئے تھے لبخیمے تھے جو حبابوں کے تپتے تھے سب کے سباڑتی تھی خاک خشک تھا چشمہ حیات کاکھولا ہوا تھا دھوپ سے پانی فرات کا

About this couplet

This is couplet 112 of 193 in “⁨جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۱۲ / ۱۹۳