جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے
شیر اٹھتے تھے نہ دھوپ کے مارے کچھار سےآہو نہ منہ نکالتے تھے سبزہ زار سےآئینہ مہر کا تھا مکدر غبار سےگردوں کو تپ چڑھی تھی زمیں کے بخار سےگرمی سے مضطرب تھا زمانہ زمین پربھن جاتا تھا جو گرتا تھا دانہ زمین پر
About this couplet
This is couplet 116 of 193 in “جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۱۶ / ۱۹۳