جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے
گھوڑوں کو اپنے کرتے تھے سیراب سب سوارآتے تھے اونٹ گھاٹ پہ باندھے ہوئے قطارپیتے تھے آبِ نہر پرند آکے بے شمارسقے زمیں پہ کرتے تھے چھڑکاؤ بار بارپانی کا دام و دد کو پلانا ثواب تھااک ابن فاطمہ کے لیے قحطِ آب تھا
About this couplet
This is couplet 120 of 193 in “جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۲۰ / ۱۹۳