جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے
کہہ دوں تو خوان لے کے خود آئیں ابھی خلیلچاہوں تو سلسبیل کو دم میں کروں سبیلکیا جام آب کا تو مجھے دے گا اور ذلیلبے آبرو خسیس ستمگردنی بخیلجس پھول پر پڑے ترا سایہ وہ بو نہ دےکھلوائے فصد تو تو یا کبھی رگ لہو نہ دے
About this couplet
This is couplet 123 of 193 in “جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۲۳ / ۱۹۳