جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے

گرمی میں تیغ برق جو چمکی شرر اڑےجھونکا چلا ہوا کا جس سن سے تو سر اڑےپرکالۂ سپر جو ادھر اور ادھر اڑےروح الامیں نے صاف یہ جانا کہ پر اڑےظاہر نشان اسم عزیمت اثر ہوئےجن پر علی لکھا تھا وہی پر سپر ہوئے

About this couplet

This is couplet 130 of 193 in “⁨جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۳۰ / ۱۹۳