جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے
دشمن جو گھاٹ پر تھے وہ دھوتے تھے جاں سے ہاتھگردن سے سر الگ تھا جدا تھے نشاں سے ہاتھتوڑا کببھی جگر کبھی چھیدا سناں سے ہاتھجب کٹ کے گر پڑیں تو پھر آئیں کہاں سے ہاتھاب ہاتھ دستیاب نہیں منہ چھپانے کوہاں پاؤں رہ گئے ہیں فقط بھاگ جانے کو
About this couplet
This is couplet 141 of 193 in “جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۴۱ / ۱۹۳