جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے
ہر چند مچھلیاں تھیں زرہ پوش سربسرمنہ کھولے چھپی پھرتی تھیں لیکن ادھر ادھربھاگی تھی موج چھوڑ کے گرداب کی سپرتھے تہ نشیں نہنگ مگر آب تھے جگردریا نہ تھمتا خوف سے اس برق تاب کےلیکن پڑے تھے پاؤں میں چھالے حباب کے
About this couplet
This is couplet 143 of 193 in “جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۴۳ / ۱۹۳