جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے
پس پس کے کشمکش سے کماندار مر گئےچلے تو سب چڑھے رہے بازو اتر گئےگوشے کٹے کمانوں کے تیروں کے پر گئےمقتل میں ہو سکا نہ گذرا گذر گئےدہشت سے ہوش اڑ گئے تھے مرغِ وہم کےسوفار کھول دیتے تھے منہ سہم سہم کے
About this couplet
This is couplet 145 of 193 in “جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۴۵ / ۱۹۳