جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے

سہمے ہوئے تھے یوں کہ کسی کو نہ تھی خبرپیکاں کدھر ہے تیر کا مزار ہے کدھرمردم کی کشمکش سے کمانوں کو تھا یہ ڈرگوشوں کی ڈھونڈھتی تھی زمیں پر جھکا کے سرترکش سے کھینچے تیر کوئی یہ جگر نہ تھاسیسر پہ جس نے ہاتھ رکھا تن پہ سر نہ تھا

About this couplet

This is couplet 154 of 193 in “⁨جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۵۴ / ۱۹۳