جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے

کچھ دست پاچہ ہو کے چلا تھا وہ نابکارپنجے سے پر اجل کے کہاں جا سکے شکارواں اس نے با میں ہاتھ میں لی تیغِ آبداریاں سر سے آئی پشت کے فقروں پہ ذوالفقارقرباں تیغِ تیز شۂ نامدار کےدو ٹکڑے تھے سوار کے دو رہوار کے

About this couplet

This is couplet 169 of 193 in “⁨جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۶۹ / ۱۹۳