جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے

آئی صدائے غیب کہ شپیر مرحبااس ہاتھ کے لیے تھی یہ شمشیر مرحبایہ آبرو یہ جنگ یہ توقیر مرحبادکھلا دی ماں کے دودھ کی تاثیر مرحباغالب کیا خدا نے تجھے کائنات پربس خاتمہ جہاد کا ہے تیری ذات پر

About this couplet

This is couplet 173 of 193 in “⁨جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۷۳ / ۱۹۳