جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے

گرتے ہیں اب حسین فرس پر سے ہے غضبنکلی رکاب پائے مطہر سے ہے غضبپہلو شگافتہ ہوا خنجر سے ہے غضبغش میں جھکے عمامہ گرا سر سے ہے غضبقرآں رحل زیں سے سرِ فرش گر پڑادیوارِ کعبہ بیٹھ گئی عرش گر پڑا

About this couplet

This is couplet 182 of 193 in “⁨جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۸۲ / ۱۹۳