جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے
پردہ الٹ کے بنتِ علی نکلی ننگے سرلرزاں قدم، خمیدہ کمر، غرق خون جگرچاروں طرف پکارتی تھی سر کو پیٹ کراے کربلا بتا، ترا مہمان ہے کدھراماں قدم اب اٹھتے نہیں تشنہ کام کےپہونچا دو الش پر مرے بازو کو تھا کے
About this couplet
This is couplet 184 of 193 in “جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۸۴ / ۱۹۳