جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے
بھیا میں اب کہاں سے تمہیں لاؤں کیا کروںکیا کہہ کے اپنے دل کو میں سمجھاؤں، کیا کروں؟کس کی دُہائی دوں کسے چلاؤں کیا کروں؟بستی پرائے ہے ، میں کدھر جاؤں کیا کروں؟دنیا تمام اجڑ گئی، ویرانہ ہو گیابیٹھوں کہاں کہ گر تو عزا خانہ ہو گیا
About this couplet
This is couplet 190 of 193 in “جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۹۰ / ۱۹۳