جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے

باقر کہیں پڑا ہے سکینہ کہیں ہے غشگرمی کی فصل یہ تب و تاب اور یہ عطشرو رو کے سو گئے ہیں صغیر ان ماہ وشبچوں کو لے کے یاں سے کہاں جائیں فاقہ کشیہ کس خطا پہ تیر پیا پے برستے ہیںٹھنڈی ہوا کے واسطے بچے ترستے ہیں

About this couplet

This is couplet 36 of 193 in “⁨جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۳۶ / ۱۹۳