جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے

شملے دو سرے جو پڑے تھے بصد وقارثابت یہ تھا کہ دوش پہ گیسو پڑے ہیں چاربل کھا رہا تھا زلفِ سمن بو کا تار تارجس کے ہر ایک مو پہ خطا و ختن نثارمشک و عبیر و عود اگر ہیں تو ہیچ ہیںسنبل پہ کیا کھلیں گے یہ گیسو کے پیچ میں

About this couplet

This is couplet 45 of 193 in “⁨جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۴۵ / ۱۹۳