جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے

زینب نے تب کہا تمہیں اس سے کیا ہے کامکیا دخل مجھ کو مالک و مختار ہیں امامدیکھو نہ کیجو بے ادبانہ کوئی کلامبگڑوں گی میں جو لوگے ظلم کا زباں سے ناملو جاؤ بس کھڑے ہو الگ ہاتھ جوڑ کےکیوں آئے ہو یہاں علی اکبر کو چھوڑ کے

About this couplet

This is couplet 56 of 193 in “⁨جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۵۶ / ۱۹۳