جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے

کی عرض میرے جس پہ جس وقت تک ہے سرممکن نہیں ہے یہہ کہ بڑے فوج بد گہرتیغیں کھنچیں جو لاکھ تو سینہ کروں سپردیکھیں اٹھا کے آنکھ یہ کیا تاب کیا جگرساونت ہیں پسر اسدِ ذوالجلال کےگر شیر ہو تو پھینک دیں آنکھیں نکال کے

About this couplet

This is couplet 74 of 193 in “⁨جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۷۴ / ۱۹۳