جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے
سر کو لگا کے چھاتی زینب نے یہ کہاتو اپنی مانگ کوکھ سے ٹھنڈی رہے سداکی عرض مجھ سے لاکھ کنیزیں تو ہوں فدبانوے نامور کہ سہاگن رکھے خدابچے جییں ترقیِ اقبال و جاہ ہوسائے میں آپ کے علی اکبر کا بیاہ ہو
About this couplet
This is couplet 77 of 193 in “جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۷۷ / ۱۹۳