جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے
نکلے پے جہاد عزیزانِ شاہِ دیںنعرے کیے کہ خوف سے ہلنے لگی زمیںروباہ کی صفوں پہ چلے شیر خشم گیںکھینچی جو تیغ بھول گئے صف کشی لعیںبجلی گری پروں پہ شمال و جنوب کےکیا کیا لڑے ہیں شام کے بادل میں ڈوب کے
About this couplet
This is couplet 94 of 193 in “جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۹۴ / ۱۹۳