دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے
تھا جو ستوں کہ رکن رسالت کا تکیہ گاہکرسی بھی اس کی پشت کی تھی ڈھونڈھتی پناہتھا جس حصیر پر وہ دو عالم کا بادشاہحسرت سے عرش کرتا تھا اس فرش پر نگاہاوج زمیں بہشت بریں سے دو چند تھامنبر کا نہ فلک سے بھی پایہ بلند تھا
About this couplet
This is couplet 13 of 86 in “دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۳ / ۸۶