کلامِ انیسمثنویات، مراثی و دیگر
دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے
دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہےذروں میں روشنئ تجلئ طور ہےاک آفتاب رخ کی ضیا دور دور ہےکوسوں زمین عکس سے دریائے نور ہےاللہ رے حسن طبقۂ عنبر سرشت کامیدان کربلا ہے نمونہ بہشت کا
حیراں زمیں کے نور سے ہے چرخ لاجوردمانند کہربا ہے رخ آفتاب زردہے روکش فضائے ارم وادی نبرداٹھتا ہے خاک سے تتق نور جائے گردحیرت سے حاملان فلک ان کو تکتے ہیںذرے نہیں زمیں پہ ستارے چمکتے ہیں
ہے آب نہر صورت آئینہ جلوہ گرتاباں ہے مثل چشمۂ خورشید ہر بھنورلہریں بسان برق چمکتی ہیں سر بہ سرپانی پہ مچھلیوں کی ٹھہرتی نہیں نظریہ آب و تاب ہے کہ گہر آب آب ہیںدریا تو آسماں ہیں ستارے حباب ہیں
پرتو فگن ہوا جو رخ قبلۂ اناممشہور ہو گئی وہ زمیں عرش احتشاماور سنگ ریزے در نجف بن گئے تمامصحرا کو مل گیا شرف وادی السلامکعبہ سے اور نجف سے بھی عزت سوا ہوئیخاک اس زمین پاک کی خاک شفا ہوئی
پھیلا جو نور مہر امامت دم زوالذروں سے واں کے آنکھ ملانا ہوا محالسارے نہال فیض قدم سے ہوئے نہالاختر بنے جو پھول تو شاخیں بنیں ہلالپتے تمام آئینۂ نور ہو گئےصحرا کے نخل سب شجر طور ہو گئے
غل تھا زہے حسین کی شوکت زہے وقارگویا کھڑے ہیں جنگ کو محبوب کردگاررخ سے عیاں ہے دبدبۂ شاہ ذو الفقارہے نور حق جبین منور سے آشکارکیونکر چھپے نہ ماہ دوہفتہ حجاب سےچودہ طبق میں نور ہے اس آفتاب سے
یہ روئے روشن اور یہ گیسوئے مشک فامیاں شام میں تو صبح ہے اور صبح میں ہے شامہالے میں یوں نظر نہیں آتا ہے مہ تمامقدرت خدا کی نور کا ظلمت میں ہے مقامزلفوں میں جلوہ گر نہیں چہرہ جناب کاہے نصف شب میں آج ظہور آفتاب کا
قرباں کمان ابروئے مولا پہ جان و دلگر ماہ نو کہیں تو ہے تشبیہ مبتذلچشم غزال دشت ختن چشم سے خجلدیکھا جسے کرم سے خطائیں ہوئیں بحلپتلی بسان قبلہ نما بے قرار ہےگریاں ہیں وہ یہ گردش لیل و نہار ہے
رخسار ہیں ضیا میں قمر سے زیادہ ترجن پر ٹھہر سکی نہ کبھی شمس کی نظرریش مخضب اور یہ رخ شاہ بحر و برپیدا ہیں صاف معنی و اللیل و القمرقرآن سے عیاں ہے بزرگی امام کیکھائی قسم خدا نے اسی صبح و شام کی
کس منہ سے کیجئے لب جان بخش کا بیاںچوسی جنہوں نے احمد مختار کی زباںکیا در آب دار ہیں اس درج میں نہاںگویا کہ موتیوں کا خزانہ ہے یہ دہاںذرے زمیں پہ عکس سے سارے چمک گئےجس وقت یہ کھلے تو ستار چمک گئے
شمع حریم لم یزل تھا گلوئے شاہتاریک شب میں جیسے ہویدا ہو نور ماہاے چرخ بے مدار یہ کیسا ستم ہے آہشمشیر شمر اور محمد کی بوسہ گاہجس پر رسول ہونٹوں کو ملتے ہوں پیار سےکٹ جائے کربلا میں وہ خنجر کی دھار سے
منظور یاں تھی مدح گلوئے شہ اممیاد آ گئی مگر یہ حدیث غم و الممسجد میں جلوہ گر تھے رسول فلک حشمملتے تھے ذکر حق میں لب پاک دم بہ دمروشن تھے بام و در رخ روشن کے نور سےآئینہ بن گئی تھی زمیں تن کے نور سے
تھا جو ستوں کہ رکن رسالت کا تکیہ گاہکرسی بھی اس کی پشت کی تھی ڈھونڈھتی پناہتھا جس حصیر پر وہ دو عالم کا بادشاہحسرت سے عرش کرتا تھا اس فرش پر نگاہاوج زمیں بہشت بریں سے دو چند تھامنبر کا نہ فلک سے بھی پایہ بلند تھا
اصحاب خاص گرد تھے انجم کی طرح سبتاباں تھا بیچ میں وہ مہ ہاشمی لقبسر پر ملک صفات مگس راں تھے دو عربجبریل تہ کیے ہوئے تھے زانوئے ادبخادم بلال و قنبر گروں اساس تھانعلین اس کے پاس عصا اس کے پاس تھا
گیسو تھے وہ مفسر و اللیل اذا سجارخ سے عیاں تھے معنی و الشمس و الضحاوہ ریش پاک اور رخ سردار انبیاگویا دھرا تھا رحل پہ قرآں کھلا ہوااوڑھے سیہ عبا جو وہ عالم پناہ تھاکعبہ کا صاف حاجیوں کو اشتباہ تھا
پہلو میں بادشاہ کے تھا جلوہ گر وزیرسردار دیں علی ولی خلق کا امیردونوں جہاں میں کوئی نہ دونوں کا تھا نظیراحمد تھے آفتاب تو حیدر مہ منیرظاہر میں ایک نور کا دو جا ظہور تھاگر غور کیجیے تو وہی ایک نور تھا
مصروف وعظ و پند تھے سلطان مشرقینجو گھر سے نکلے کھیلتے زہرا کے نور عیننانا بغیر دونوں نواسوں کو تھا نہ چینبڑھ جاتے تھے حسن کبھی آگے کبھی حسینکہتے تھے دیکھیں کون قدم جلد اٹھاتا ہےنانا کے پاس کون بھلا پہلے جاتا ہے
وہ گورے گورے چہروں پہ زلفیں ادھر ادھراختر سے وہ چمکتے ہوئے کان کے گہررشک ہلال طوق گلے غیرت قمرہیکل پہ نقش نام خدائے جلیل کےتعویذ گردنوں پہ پر جبرئیل کے
مسجد میں آئے ہنستے ہوئے جب وہ گل بدنخوشبو سے صحن مسجد جامع بنا چمنتسلیم کو حسین سے پہلے جھکے حسنخوش ہو کے مسکرانے لگے سرور زمنبڑھ بڑھ کے خم سلام کو چھوٹے بڑے ہوئےبیٹھے رہے رسول ملک اٹھ کھڑے ہوئے
بیٹوں کو تھا علی کا اشارہ کہ بیٹھ جاؤلازم نہیں کہ وعظ میں نانا کو تم ستاؤپھیلا کے ہاتھ بولے محمد کہ آؤ آؤشبیر نے کہا ہمیں پہلے گلے لگاؤبھائی حسن جو آپ کی گودی میں آئیں گےہم تم سے نانا جان ابھی روٹھ جائیں گے
بولے حسن کہ واہ ہمیں اور کریں نہ پیاراقرار کے چکے ہیں شہنشاہ نام داربولے بہ چشم نم یہ حسین فلک وقاردیکھیں تو کون کاندھے پہ ہوتا ہے اب سوارسب سے سوا جو ہیں سو ہمیں ان کے پیارے ہیںآگے نہ بڑھیے آپ کہ نانا ہمارے ہیں
بھائی سے تب کہا یہ حسن نے بہ التفاتبے وجہ ہم سے روٹھے ہو تم اے نکو صفاتنانا ہمارے کیا نہیں سلطان کائناتہوتی ہے ناگوار تمہیں تو ذرا سی باتغصہ نہ اتنا چاہیئے خوش خو کے واسطےمچلے تھے یوں ہی بچۂ آہو کے واسطے
یہ سن کے منہ علی کا لگے دیکھنے رسولہنس کر کہا یہ دونوں ہیں میرے چمن کے پھولمیں چاہتا ہوں ایک کی خاطر نہ ہو ملولروئیں گے یہ تو گھر سے نکل آئے گی بتولہووے نہ رنج میرے کسی نور عین کوتم لو حسن کو گود میں میں لوں حسین کو
شبر سے پھر اشارہ کیا ہو کے بے قرارغصہ نہ کھاؤ پہلے تمہیں کو کریں گے پیارپھر بولے دیکھ کر سوئے شبیر نامدارآ اے حسین آ تری باتوں کے میں نثارچھاتی سے ہم لگائیں گے جان اپنی جان کردیکھیں تو پہلے کون لپٹتا ہے آن کر
دوڑے یہ بات سن کے برابر وہ خوش سیرپاس آئے آفتاب رسالت کے دو قمرلپٹے حسین ہنس کے ادھر اور حسن ادھرتھے پانوں زانوؤں پہ تو بالائے دوش سرنانا کے ساتھ پیار میں دونوں کا ساتھ تھاگردن میں ایک ان کا اور ان کا ہاتھ تھا
پھر پھر کے دیکھتے تھے شہنشاہ مشرقینگہہ جانب حسن تو کبھی جانب حسینبیٹھے جو زانوؤں پہ وہ زہرا کے نور عینتھا تن کو لطف قلب کو راحت جگر کو چینجھک جھک کے منہ رسول زمن چومنے لگےان کا گلا تو ان کا دہن چومنے لگے
شبیر چاہتے تھے کہ چومیں مرے بھی لبپر کچھ گلے کے بوسوں کا کھلتا نہ تھا سببنانا کے منہ کے پاس یہ لاتے تھے منہ کو جبجھک جھک کے چومتے تھے گلا سید عرببھائی کو دیکھ کر جو حسن مسکراتے تھےغیرت سے ان کی آنکھوں میں آنسو بھر آتے تھے
اٹھے حسین زانوئے احمد سے خشمگیںغصے سے رنگ زرد اور آنکھوں پہ آستیںرخ پر پسینہ جسم میں رعشہ جبیں پہ چیںپوچھا کدھر چلے تو یہ بولے کہیں نہیںگھر میں اکیلے تیوری چڑھائے چلے گئےدیکھا نہ پھر کے سر کو جھکائے چلے گئے
بیت الشرف میں آئے جو شبیر نام دارکرتے کو منہ پہ رکھ کے لگے رونے زارزاردوڑیں یہ کہہ کے فاطمہ زہرا جگر فگارہے ہے حسین کیا ہوا تو کیوں ہے اشک بارتجھ کو رلا کے غم میں مجھے مبتلا کیاقربان ہو گئی تجھے کس نے خفا کیا
میرا کلیجہ پھٹتا ہے اے دل ربا نہ روزہرا ہزار جان سے تجھ پہ فدا نہ روسر میں نہ درد ہو کہیں اے مہ لقا نہ روبس بس نہ رو حسین برائے خدا نہ رومیری طرف تو دیکھو کہ بیتاب ہوتی ہوںچادر سے منہ کو ڈھانپ کے لو میں بھی روتی ہوں
تو منہ تو کھول اے مرے شبیر خوش خصالتر ہو گئے ہیں آنسوؤں سے گورے گورے گالمل مل کے پشت دست سے آنکھ کرو نہ لالسلجھاؤں آؤ الجھے ہوئے گیسوؤں کے بالگھر سے گئے تھے ساتھ جدا ہو کے آئے ہوسمجھی میں کچھ حسن سے خفا ہو کے آئے ہو
تم چپ رہو وہ گھر میں تو مسجد سے پھر کے آئیںگزری میں کھیل سے مرے بچے کو کیوں رلائیںان سے نہ بولیو وہ تمہیں لاکھ گر منائیںلو آؤ جانے دو تمہیں چھاتی سے ہم لگائیںواری اگر حسن نے رلایا برا کیاپوچھوں گی کیا نہ میں مرے پیارے نے کیا کیا
بولے حسین ہم تو ہیں اس بات پر خفانانا نے چومے بھائی کے ہونٹ اور مرا گلاتم اماں جان منہ کو تو سونگھو مرے ذراکچھ بوئے ناگوار ہے میرے دہن میں کیابھائی کے لب سے اپنے لبوں کو ملاتے ہیںاب ہم نہ جائیں گے ہمیں نانا رلاتے ہیں
منہ رکھ کے منہ پہ بولی یہ زہرا جگر فگاربوئے گلاب آتی ہے اے میرے گلغدارچوما اگر گلا تو خفا ہو نہ میں نثارتم کو زباں چوساتے تھے محبوب کردگاریہ مشک میں مہک نہ گل یاسمن میں ہےخوش بو اسی دہن کی تمہارے دہن میں ہے
کہنے لگے حسین یہ ماں سے بہ چشم نمکیا جانو تم حسن سے ہمیں چاہتے ہیں کمیہ کیا انہیں پہ لطف و عنایت ہے دم بہ دممعلوم ہو گیا انہیں پیارے نہیں ہیں ہمرو رو کے آج جان ہم اپنی گنوائیں گےپانی نہ اب پئیں گے نہ کھانے کو کھائیں گے
یہ بات سن کے ہو گیا زہرا کا رنگ فقبولی پسر سے رو کے وہ بنت رسول حقصدقے گئی کرو نہ کلیجے کو میرے شقہے ہے یہ کیا کہا مجھے ہوتا ہے اب قلقمیرا لہو بہے گا جو آنسو بہاؤ گےکاہے کو ماں جیے گی جو کھانا نہ کھاؤگے
یہ کہہ کے اوڑھ لی سر پر نور پر رداموزے پہن کے گود میں شبیر کو لیادر تک گئی جو گھر سے وہ دل بند مصطفافضہ نے بڑھ کے بوزر و سلماں کو دی صداپیش نبی حسین کو گودی میں لاتی ہیںہٹ جاؤ سب کہ فاطمہ مسجد میں آتی ہیں
اللہ رے آمد آمد زہرا کا بندوبستساتوں فلک تھے اوج شرافت سے جس کے پستاحمد کے گرد و پیش سے اٹھے خدا پرستانساں تو کیا ملک کو نہ تھی قدرت نشستآئیں تو شاد شاد رسول زمن ہوئےگھر میں خدا کے ایک جگہ پنج تن ہوئے
تعظیم فاطمہ کو اٹھے سید البشردیکھا کہ چشم فاطمہ ہے آنسوؤں سے ترغم تھے حسین دوش پہ ماں کے جھکائے سرتھا اک ہلال مہر کے پہلو میں جلوہ گرماں کہتی تھی نہ رؤو مگر چپ نہ ہوتے تھےآنکھیں تھیں بند ہچکیاں لے لے کے روتے تھے
گھبرا کے پوچھنے لگے محبوب ذو الجلالروتا ہے کیوں حسین یہ کیا ہے تمہارا حالبولیں بتول آج قلق ہے مجھے کمالرویا ہے یہ حسین کہ آنکھیں ہیں دونوں لالآتے ہیں ہنستے روتے ہوئے گھر میں جاتے ہیںشفقت بھی آپ ہی کرتے ہیں آپ ہی رلاتے ہیں
ہاتھوں کو جوڑتی ہوں میں یا شاہ بحر و برشفقت کی اس کے حال پہ ہر دم رہے نظررونے سے اس کے ہوتا ہے ٹکڑے مرا جگرمجھ فاقہ کش غریب کا پیارا ہے یہ پسرحیدر سے پوچھیے مرے عسرت کے حال کوکس کس دکھوں سے پالا ہے اس نونہال کو
اشک اس کے جتنے ٹپکے ہیں یا شاہ نیک خواتنا ہی گھٹ گیا ہے مرے جسم کا لہوروئے ہیں پھوٹ پھوٹ کے یہ میرے رو بہ روتر ہو گیا ہے آنسوؤں سے چاند سا گلودیکھا نہ تھا یہ میں نے جو حال اس کا آج ہےحضرت تو جانتے ہیں کہ نازک مزاج ہے
شفقت سے آج آپ نے چومے حسن کے لببوسہ لیا نہ ان کے لبوں کا یہ کیا سببرتبے میں دونوں ایک ہیں یا سرور عربمیں سچ کہوں یہ سن کے مجھے بھی ہوا عجباس کو جو ہو خوشی تو دل اس کا بھی شاد ہوچھوٹے سے چاہیئے کہ محبت زیاد ہو
آپ ان کے ناز اٹھاتے ہیں یا شاہ بحر و برپھر کس سے روٹھیں آپ سے روٹھیں نہ یہ اگراکثر انہیں چڑھایا ہے حضرت نے دوش پرگیسو دئیے ہیں ننھے سے ہاتھوں میں بیشترروٹھے تھے یہ سو قدموں پہ سر دھرنے آئے ہیںمنہ کے نہ چومنے کا گلا کرنے آئے ہیں
یہ کہہ کے پھر حسین سے بولیں بہ چشم ترلو جا کے اب نبی کے قدم پر جھکاؤ سرآئے حسین ہاتھ جو ننھے سے جوڑ کربے اختیار رونے لگے سید البشررہ رہ کے دیکھتے تھے علی و بتول کونزدیک تھا قلق سے غش آئے رسول کو
تھی آنسوؤں سے ریش مبارک تمام نمفرط بکا سے خاک پہ جھکتے تھے دم بہ دمگاہے ستوں سے لگ کے ہوئے راست گاہ خمہر لحظہ اضطراب زیادہ تھا صبر کمہو سکتا تھا نہ ضبط شۂ مشرقین سےروتے تھے بار بار لپٹ کر حسین سے
شبیر رو کے کہتے تھے نانا نہ روئیےروئیں گے اب نہ ہم شۂ والا نہ روئیےہلنے لگے گا عرش معلےٰ نہ روئیےپھٹتا ہے اب ہمارا کلیجہ نہ روئیےسو بار دن میں ہم تو منہ اشکوں سے دھوتے ہیںحضرت ہمارے رونے پہ کاہے کو روتے ہیں
گھبرا گئے علی ولی شاہ بحر و برکی عرض فاطمہ نے جھکا کے قدم پہ سربیٹی نثار ہو گئی یا سید البشرکیا وجہ ہے جو آپ ہیں اس طرح نوحہ گرجلدی بتائیے کہ مجھے تاب اب نہیںرونا خدا کے دوست کا یہ بے سبب نہیں
حضرت کو علم غیب ہے یا شاہ انس و جاںآئندہ و گزشتہ کا سب حال ہے عیاںکیا آئی آج وحی خداوند دو جہاںہونا ہے جو حسین پہ مجھ سے کرو بیاںفاقوں سے کاٹتی ہوں مصیبت جہان کیکیوں بابا جان خیر تو ہے اس کی جان کی
بولے جگر کو تھام کے محبوب ذو الجلالتجھ سے سنا نہ جائے گا اے فاطمہ یہ حالکس منہ سے میں کہوں کہ قلق ہے مجھے کمالزہرا شہید ہوئے ہوویں گے تیرے یہ دونوں لالماتم کی یہ خبر ابھی جبریل لائے تھےسارے ملک حسین کے پرسے کو آئے تھے
الماس پی کے ہوئے گا بے جاں ترا حسنیہ وجہ ہے کہ چومتا ہوں اس کا میں دہنبھر جائے گا کلیجوں کے ٹکڑوں سے سب لگنہوگا زمردی ترے اس لال کا بدنسوئے بہشت جب یہ جہاں سے سدھاریں گےبد کیش تیر اس کے جنازے پہ ماریں گے
زہرا مجھے کلام کی طاقت نہیں ہے ابحلق حسین چومنے کا کیا کہوں سبباک بن میں تین روز رہیں گے یہ تشنہ لبکٹ جائے گا گلا یہی خنجر سے ہے غضبنیزے پہ سر چڑھے گا ترے نور عین کاگھوڑوں سے روند ڈالیں گے لاشہ حسین کا
روئے خبر یہ کہہ کے جو محبوب ذو المننگھبرا کے منہ حسین کا تکنے لگے حسنزہرا پکاری ہائے لٹے گا مرا چمنمیں مر گئی دہائی ہے یا سرور زمنیہ کیسی آگ ہے کہ مری کوکھ جل گئیہے ہے چھری کلیجے پہ زہرا کے چل گئی
فریاد یا نبی شۂ ابرار الغیاثاے مرسلان حق کے مددگار الغیاثاے بے کسوں کے وارث و سردار الغیاثقدرت ہے سب طرح کی شۂ مشرقین کوحضرت سے لوں گی اپنے حسن اور حسین کو
کس جرم پر یہ لال مرے قتل ہوں گے آہرو کر کہا رسول خدا نے کہ بے گناہکی عرض فاطمہ نے کہ اے عرش بارگاہبچوں کو میرے کیا نہ ملے گی کہیں پناہتلواریں کھینچ کھینچ کے ظالم جو آئیں گےحضرت نہ کیا نواسوں کو اپنے بچائیں گے
آساں ہے کیا جو قتل کریں گے ستم شعارکیا شیر حق کمر سے نہ کھینچیں گے ذو الفقاراعدا پہ کیا چلے گا نہ دست خدا کا واربالوں کو کیا نہ کھولے گی زہرا جگر فگارٹکڑے جگر جو ہوئے گا مجھ دل دو نیم کاپایہ نہ کیا ہلاؤں گی عرش عظیم کا
زہرا سے رو کے کہنے لگے شاہ نیک خوبیٹی مجھے ستائیں گے تربت میں کینہ جواس وقت قتل ہوئیں گے یہ دونوں ماہ رودنیا میں جب نہ ہوگا علی اور نہ میں نہ تولاشے پہ مجتبیٰ کے تو شبیر روئے گاشبیر جب مرے گا تو کوئی نہ ہوئے گا
چلائی سر پٹک کے یہ زہرا کہ ہے ستمپیٹے گا کون تن سے جو نکلے گا اس کا دمماتم کی صف بچھائے گا کون اے شہ اممپرسے کو کون آئے گا اس کے بہ چشم نمہم میں سے ایسے وقت جو کوئی نہ ہوئے گاہے ہے مرے حسین کو پھر کون روئے گا
بچے کی میرے تعزیہ داری کرے گا کونمنہ ڈھانپ ڈھانپ گریہ و زاری کرے گا کوندریائے اشک چشم سے جاری کرے گا کونامداد بعد مرگ ہماری کرے گا کونہوگا کہاں نبی کے نواسے کا فاتحہشربت پہ کون دیوے گا پیاسے کا فاتحہ
بولے نبی کہ آپ کو زہرا نہ کر ہلاکفرما چکا ہے مجھ سے یہ وعدہ خدائے پاکپیدا کریں گے قوم اک ایسی بہ روئے خاکجو رات دن رہیں گے اسی غم میں درد ناکبزم عزا میں آئیں گے وہ دور دور سےتن خاک سے بنائیں گے دل ان کے نور سے
ہوگی انہیں سے مجلس ماتم کی زیب و زیندیں گے انہیں وہ لب کہ رہے جس پہ وا حسینآنکھیں وہ دیں گے رونے کو سمجھیں جو فرض عینہاتھ ایسے غیر سینہ زنی ہو جنہیں نہ چینسامان تعزیت کے کبھی کم نہ ہوئیں گےوہ حشر تک حسین کے ماتم میں روئیں گے
ہوگا عیاں فلک پہ محرم کا جب ہلالرخت سیاہ پہنیں گے بر میں وہ خوش خصالکھولیں گی بیبیاں بھی سب اپنے سروں کے بالہر گھر میں ہوگا شور کہ ہے ہے علی کا لاللیں گے صلے میں خلد ترے نور عین سےآنسو عزیز وہ نہ کریں گے حسین سے
پیاسا شہید ہوگا جو تیرا یہ دل ربامومن سبیلیں رکھیں گے پانی کی جا بجاہووے گی شاد روح شہیدان کربلابھر بھر کے آب سرد پکاریں گے برملامحبوب کبریا کے نواسے کی نذر ہےپیاسے نہ جائیو کہ یہ پیاسے کی نذر ہے
کہنے لگی نبی سے بتول فلک جنابہے ہے میں کیا کروں مرے دل کو نہیں ہے تاباے بادشاہ کون و مکاں مالک الرقابدرگاہ حق میں آپ کی ہے عرض مستجابکیجے دعا کہ خالق اکبر مدد کرےاللہ یہ بلا مرے بچے کی رد کرے
بیٹی سے رو کے کہنے لگے شاہ کائناتروح الامیں نے مجھ سے تو یہ بھی کہی ہے باتچاہو تو رد کرے یہ بلا رب پاک ذاتلیکن نہ ہوے گی مرے امت کی پھر نجاتمحبوب حق نثار ترے نور عین پرموقوف ہے یہ امر تو قتل حسین پر
اللہ رے صبر دختر محبوب کردگارامت کا نام سن کے جھکایا سر ایک بارخوشنود ہو کے کہنے لگے شاہ ذوالفقارصدقے حسن حسین تصدق علی نثاراس راہ میں نہ مال نہ دولت عزیز ہےپیارے پسر نہیں ہمیں امت عزیز ہے
کہنے لگے حسین سے پھر شاہ بحر و بربتلا مجھے کہ کیا تری مرضی ہے اے پسرنانا سے بولے چھوٹے سے ہاتھوں کو جوڑ کرامت کے کام آئے تو حاضر ابھی ہے سروعدہ کو ہم نہ بھولیں گے گو خورد سال ہیںچھوٹے نہیں ہیں مخبر صادق کے لال ہیں
روتے ہیں آپ کس لیے یا سید اممراضی ہیں ہم پہ راہ خدا میں ہوں جو ستمتلواریں بھی چلیں تو نہیں مارنے کے دمامت پہ اپنے سر کو تصدق کریں گے ہمہم راست گو ہیں بات پہ جس وقت آتے ہیںکہتے ہیں جو زباں سے وہی کر دکھاتے ہیں
بچپن میں جو زباں سے کہا تھا کیا وہ کامجس وقت رن میں ٹوٹ پڑے شہ پہ فوج شامگردن جھکا کے برچھیاں کھایا کیے امامخوں میں قبا رسول کی تر ہو گئی تمامتیغیں علی کے لال کے شانے پہ چل گئیںچھاتی کے پار نیزوں کی نوکیں نکل گئیں
پھیری نہ تھی جو پشت مبارک دم مصافتھے دو ہزار زخم فقط سر سے تا بہ نافسید سے بے وطن سے زمانہ تھا بر خلافغل تھا کہ آج ہوتا ہے گھر فاطمہ کا صافسنبھلا نہ جائے گا خلف بو تراب سےلو وہ قدم حسین کے نکلے رکاب سے
مینہ کی طرح برسنے لگے شاہ دیں پہ تیرتھرا رہے تھے لگ کے تن نازنیں پہ تیردامن پہ تیر جیب پہ تیر آستیں پہ تیرپہلو پہ تیغ سینہ پہ نیزہ جبیں پہ تیرداغوں سے خوں کے رخت بدن لالہ زار تھاشکل ضریح سینۂ اقدس فگار تھا
تر تھی لہو میں زلف شکن در شکن جدامجروح لعل لب تھے جدا اور دہن جدادرپئے تھے نیزہ دار جدا تیغ زن جداکٹ کٹ کے ہو گیا تھا ہر اک عضو تن جداسی پارہ تھا نہ صدر فقط اس جناب کاپرزے ورق ورق تھا خدا کی کتاب کا
کرتا تھا وار برچھیوں والوں کا جب پراتیغوں سے دم بھی لینے کی مہلت نہ تھی ذرانیزوں میں خوں نبی کے نواسے کا تھا بھراشمشیر و تیر نیزہ و خنجر کے ماوراتھیں سختیاں ستم کی شہ خوش خصال پرچلتے تھے سنگ فاطمہ زہرا کے لال پر
تھے دو ہزار جسم شۂ بحر و بر پہ زخمماتھے پہ زخم تیر کے تیغوں کے سر پہ زخمگردن پہ زخم سینہ پہ زخم اور کمر پہ زخماور اس کے ماورا تھے بہتر جگر پہ زخمگھوڑے پہ گہہ سنبھلتے تھے گہہ ڈگمگاتے تھےغش آتا تھا تو ہرنے پہ سر کو جھکاتے تھے
گھوڑے پہ جب سنبھلنے کی مطلق رہی نہ تابہاتھوں سے باگ چھوٹ گئی اور پاؤں سے رکابگرنے لگا جو خاک پہ وہ آسماں جنابمرقد میں بے قرار ہوئی روح بو ترابغل تھا کہ خاک پر شہ کون و مکاں گرابس اب زمیں الٹ گئی اور آسماں گرا
جلتی ہوئی زمیں پہ تڑپنے لگے امامبے کس پہ ظالموں نے کیا اور اژدہاماس وقت شمر سے یہ عمر نے کیا کلامہاں تن سے جلد کاٹ سر سرور انامڈریو نہ سن کے فاطمہ زہرا کی آہ کوگل کر دے شمع قبر رسالت پناہ کو
یہ سنتے ہی چڑھائی ستمگر نے آستیںخنجر کمر سے کھینچ کے آگے بڑھا لیںتھے قبلہ رو جھکے ہوئے سجدے میں شاہ دیںلب ہلتے دیکھے شاہ کے آیا وہ جب قریںسمجھا کہ تشنگی سے جو صدمے گزرتے ہیںاس وقت بد دعا مجھے شبیر کرتے ہیں
جھک کر قریب کان جو لایا تو یہ سناحق میں گناہ گاروں کے کرتے ہیں شہ دعاجاری زبان خشک پہ یہ ہے کہ اے خداکر حاجتوں کو میرے محبوں کی تو رواشیعوں کا حشر روز جزا میرے ساتھ ہومیرا یہ خوں بہا ہے کہ ان کی نجات ہو
یہ سن کے مستعد ہوا وہ شہ کے قتل پرزانو رکھا حسین کے سینے پہ بے خطرگردن پہ پھیرنے لگا خنجر جو بد گہرآئی صدا علی کی کہ ہے ہے مرے پسرزہرا پکاری کچھ بھی نبی سے حجاب ہےظالم یہ بوسہ گاہ رسالت مآب ہے
کیوں ذبح میرے لال کو کرتا ہے بے گناہکیوں کاٹتا ہے میرے کلیجے کو رو سیاہکشتی کو اہل بیت نبی کی نہ کر تباہمیں فاطمہ ہوں عرش ہلائے گی میری آہہوئے گا حشر قتل جو یہ بے وطن ہوایہ مر گیا تو خاتمہ پنج تن ہوا
آواز اپنی ماں کی یہ زینب نے جب سنیدوڑی نکل کے خیمے سے سر پیٹتی ہوئیدیکھا کہ ذبح کرتا ہے حضرت کو وہ شقیسر پیٹ کر یہ کہنے لگی وہ جگر جلیہے ہے نہ تین روز کے پیاسے کو ذبح کرظالم نہ مصطفی کے نواسے کو ذبح کر
بانو پکارتی تھی یہ کیا کرتا ہے لعیںپیاسا ہے تین روز سے حیدر کا جا نشیںچلاتی تھی سکینہ کہ جینے کی میں نہیںبابا کو ذبح کرتا ہے کیوں اے عدوئے دیںخنجر نہ پھیر چاند سی گردن پہ رحم کرابا کو چھوڑ دے مرے بچپن پہ رحم کر
زخموں سے چور چور ہے زہرا کا یادگارجس چھاتی پر میں سوتی تھی اس پر ہے تو سواربابا کے حلق پر نہ پھرا اب چھری کی دھاربدلے پدر کے سر کو مرے تن سے تو اتارسید پہ تشنہ لب پہ ستم اس قدر نہ کرپوتی ہوں فاطمہ کی مجھے بے پدر نہ کر
رو کر بیاں یہ کرتی تھی وہ سوختہ جگردے کر دہائی اہل حرم پیٹتے تھے سرکرتا تھا ذبح شہ کو وہاں شمر بد گہرفرماتے تھے یہ شاہ کہ پیاسا ہوں رحم کرپانی دیا نہ ہائے نبی کے نواسے کوجلاد ذبح کرنے لگا بھوکے پیاسے کو
آخر سر امام امم تن سے کٹ گیاچلا کے فاطمہ نے یہ زینب کو دی صدامیداں سے جلد لے کے سکینہ کو گھر میں جابے جرم کٹ گیا ترے ماں جائے کا گلامارا بظلم شمر نے پیاسے کو جان سےمیں لٹ گئی حسین سدھارے جہان سے
بس اے انیسؔ بزم میں ہے نالہ و فغاںپوچھ ان کے دل سے جو ہیں سخن فہم نکتہ داںحق ہے سنا نہیں کبھی اس حسن کا بیاںگویا کہ یہ خلیق کی ہے سر بہ سر زباںسچ ہے کہ اس زباں کو کوئی جانتا نہیںجو جانتا ہے اور کو وہ مانتا نہیں
۸۳ / ۹۰