دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے

بھائی سے تب کہا یہ حسن نے بہ التفاتبے وجہ ہم سے روٹھے ہو تم اے نکو صفاتنانا ہمارے کیا نہیں سلطان کائناتہوتی ہے ناگوار تمہیں تو ذرا سی باتغصہ نہ اتنا چاہیئے خوش خو کے واسطےمچلے تھے یوں ہی بچۂ آہو کے واسطے

About this couplet

This is couplet 22 of 86 in “⁨دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۲۲ / ۸۶