دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے
تو منہ تو کھول اے مرے شبیر خوش خصالتر ہو گئے ہیں آنسوؤں سے گورے گورے گالمل مل کے پشت دست سے آنکھ کرو نہ لالسلجھاؤں آؤ الجھے ہوئے گیسوؤں کے بالگھر سے گئے تھے ساتھ جدا ہو کے آئے ہوسمجھی میں کچھ حسن سے خفا ہو کے آئے ہو
About this couplet
This is couplet 31 of 86 in “دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۳۱ / ۸۶