دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے
بولے حسین ہم تو ہیں اس بات پر خفانانا نے چومے بھائی کے ہونٹ اور مرا گلاتم اماں جان منہ کو تو سونگھو مرے ذراکچھ بوئے ناگوار ہے میرے دہن میں کیابھائی کے لب سے اپنے لبوں کو ملاتے ہیںاب ہم نہ جائیں گے ہمیں نانا رلاتے ہیں
About this couplet
This is couplet 33 of 86 in “دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۳۳ / ۸۶