دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے

تعظیم فاطمہ کو اٹھے سید البشردیکھا کہ چشم فاطمہ ہے آنسوؤں سے ترغم تھے حسین دوش پہ ماں کے جھکائے سرتھا اک ہلال مہر کے پہلو میں جلوہ گرماں کہتی تھی نہ رؤو مگر چپ نہ ہوتے تھےآنکھیں تھیں بند ہچکیاں لے لے کے روتے تھے

About this couplet

This is couplet 39 of 86 in “⁨دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۳۹ / ۸۶