دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے
یہ کہہ کے پھر حسین سے بولیں بہ چشم ترلو جا کے اب نبی کے قدم پر جھکاؤ سرآئے حسین ہاتھ جو ننھے سے جوڑ کربے اختیار رونے لگے سید البشررہ رہ کے دیکھتے تھے علی و بتول کونزدیک تھا قلق سے غش آئے رسول کو
About this couplet
This is couplet 45 of 86 in “دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۴۵ / ۸۶