دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے
الماس پی کے ہوئے گا بے جاں ترا حسنیہ وجہ ہے کہ چومتا ہوں اس کا میں دہنبھر جائے گا کلیجوں کے ٹکڑوں سے سب لگنہوگا زمردی ترے اس لال کا بدنسوئے بہشت جب یہ جہاں سے سدھاریں گےبد کیش تیر اس کے جنازے پہ ماریں گے
About this couplet
This is couplet 51 of 86 in “دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۵۱ / ۸۶