دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے

کہنے لگے حسین سے پھر شاہ بحر و بربتلا مجھے کہ کیا تری مرضی ہے اے پسرنانا سے بولے چھوٹے سے ہاتھوں کو جوڑ کرامت کے کام آئے تو حاضر ابھی ہے سروعدہ کو ہم نہ بھولیں گے گو خورد سال ہیںچھوٹے نہیں ہیں مخبر صادق کے لال ہیں

About this couplet

This is couplet 67 of 86 in “⁨دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۶۷ / ۸۶