دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے
یہ سنتے ہی چڑھائی ستمگر نے آستیںخنجر کمر سے کھینچ کے آگے بڑھا لیںتھے قبلہ رو جھکے ہوئے سجدے میں شاہ دیںلب ہلتے دیکھے شاہ کے آیا وہ جب قریںسمجھا کہ تشنگی سے جو صدمے گزرتے ہیںاس وقت بد دعا مجھے شبیر کرتے ہیں
About this couplet
This is couplet 77 of 86 in “دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۷۷ / ۸۶