دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے

قرباں کمان ابروئے مولا پہ جان و دلگر ماہ نو کہیں تو ہے تشبیہ مبتذلچشم غزال دشت ختن چشم سے خجلدیکھا جسے کرم سے خطائیں ہوئیں بحلپتلی بسان قبلہ نما بے قرار ہےگریاں ہیں وہ یہ گردش لیل و نہار ہے

About this couplet

This is couplet 8 of 86 in “⁨دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۸ / ۸۶