دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے
بس اے انیسؔ بزم میں ہے نالہ و فغاںپوچھ ان کے دل سے جو ہیں سخن فہم نکتہ داںحق ہے سنا نہیں کبھی اس حسن کا بیاںگویا کہ یہ خلیق کی ہے سر بہ سر زباںسچ ہے کہ اس زباں کو کوئی جانتا نہیںجو جانتا ہے اور کو وہ مانتا نہیں
About this couplet
This is couplet 86 of 86 in “دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۸۶ / ۸۶