بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ
نیزۂ فوجِ ستمگار تھے دیکھے بھالےدم میں اس شیر نیستاں نے قلم کر ڈالےگرچہ تھے جان لڑائے ہوئے لڑنے والےآفتِ مرگ کو سر سے کوئی کیوں کر ٹالےجب سواروں کے پرے جنگ پہ تُل جاتے تھےبند سب ناخنِ شمشیر سے کُھل جاتے تھے
About this couplet
This is couplet 114 of 136 in “بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۱۴ / ۱۳۶