کلامِ انیسمثنویات، مراثی و دیگر
بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ
بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔایک دو لاکھ سواروں میں بہادر تھا حُرؔنارِ دوزخ سے ابوذرؔ کی طرح حُر تھا حُرؔگوہرِ تاجِ سرِ عرش ہو، وہ دُر تھا حُرؔڈھونڈھ لی راہِ خدا کام بھی کیا نیک ہواپاک طینت تھی تو انجام بھی کیا نیک ہوا
واہ رے طالعِ بیدار، رہے عزت و جاہحُرؔ پہ کیا فضلِ خدا ہو گیا، اللہ اللہپیشوائی کو گئے آپ، شہِ عرش پناہخضرِ قسمت نے بتا دی اسے فردوس کی راہمدتوں دور رہے جو وہ قریب ایسا ہوبخت ایسے ہوں، اگر ہو تو نصیب ایسا ہو
نار سے نور کی جانب اسے لائی تقدیرابھی ذرہ تھا ابھی ہو گیا خورشیدِ منیرشافعِ حشر نے خوش ہو کے بحل کی تقصیرتکیۂ زانوئے شبیرؔ ملا وقتِ اخیراوج و اقبال و حشم فوجِ خدا میں پایاجب ہوا خاک تو گھر خاکِ شفا میں پایا
اللہ اللہ حرِؔ صفدر و غازی کا نصیبجانِ محبوبِ الٰہی جسے فرمائے حبیبہجر میں لطف ملاقات کا دوری میں قریبوہی کام آتے ہیں محسن کے، جو ہوتے ہیں نجیبصدقے ہو جائے اسے عشقِ ولی کہتے ہیںاس کو دنیا میں سعیدِ ازلی کہتے ہیں
آیا کس شوق سے کعبے کی طرف چھوڑ کے دَیرکوئی حضرت کا یگانہ بھی نہ سمجھا اسے غیرحق نے لکھ دی تھی جو تقدیر میں فردوس کی سیرفتنہ و شر سے بچا، ہو گیا انجام بخیرذکرِ خیر اس کے موے پر بھی ہوئے جاتے ہیںعملِ نیک ہر اک وقت میں کام آتے ہیں
کفر کی راہ سے کارہ تھا، جو وہ نیک طریقکس بشاشت سے ہوا، رہبرِ ایماں کا رفیقتھے تو لاکھوں، پہ کسی کو بھی ہوئی یہ توفیقخُلق طینت میں ہے جس کے وہی ہوتے ہیں خلیقاوج دیندار کو، بے دیں کو سدا پستی ہےاصل جس تیغ کی اچھی وہی کستی ہے
کیوں نہ بالیدہ ہو اس کا چمنِ جاہ و جلالجس کو سر سبز کرے خود اسد اللہ کا لالہو گیا فاطمہؔ کے باغ میں آتے ہی نہالوہ ثمر پائے کہ پہونچے نہ جہاں دستِ خیالکِھِل گیا غنچۂ دل عذر جو منظور ہوئےصورتِ برگِ خزاں دیدہ، گنہ دور ہوئے
حُرؔ کہاں، اور کہاں احمدِؔ مرسل کا خلفبخت نے دَیر سے پہونچا دیا کعبے کی طرفدل صفا ہو گیا سینے میں تو پائے یہ شرفجب کہ آنکھیں ہوئی حق بیں، تو ملا درِّ نجفنیک جو امر ہیں، دل پر وہی ٹھن جاتے ہیںجب خدا چاہے تو بگڑے ہوئے بن جاتے ہیں
وصفِ حُر میں ہے زباں معترفِ عجز و قصورآمد آمد کی بہادر کا، سنو اب مذکورجب ہوئی مستعدِ جنگ، سپاہِ مقہورمہر افلاک امامت نے کیا رن میں ظہورغل ہوا جنگ کو، اللہ کے پیارے نکلےاے فلک دیکھ، زمیں پر بھی ستارے نکلے
کیا کہوں شانِ جوانانِ جنودِ اللہکوئی ہم طلعتِ خورشید، کوئی غیرتِ ماہباندھی شیروں نے صفِ جنگ میانِ جنگاہچمنِ خُلد سے کرنے لگیں حوریں بھی نگاہواں لعینوں نے درِ ظلم و ستم کھول دیابڑھ کے عباسؔ نے یاں سبز علم کھول دیا
ہو گئے سرخ شجاعت سے رخِ آلِ نبیؐآئی ٹھنڈی جو ہوا بھول گئے تشنہ لبیرن میں کڑکا ہوا، بجنے لگے باجے عربییکہ تازوں نے کیا شورِ مبارز طلبیاک گھٹا چھا گئی ڈھالوں سے سیہ کاروں کیبرق ہر صف میں چمکنے لگی تلواروں کی
برچھیاں تول کے ہر غول سے خوں خوار بڑھےنیزے ہاتھوں میں سنبھالے ہوئے اسوار بڑھےتیر جوڑے ہوئے چلوں میں، کماں دار بڑھےبولے شہ یاں سے ابھی کوئی نہ زنہار بڑھےاسدِ حق کے گھرانے کا یہ دستور نہیںمیں نبی زادہ ہوں سبقت مجھے منظور نہیں
یہ سخن سن کے مخاطب ہوئے اعدا سے اماماے سپاہِ عرب و روم و رے و کوفہ و شامتم پہ کرتا ہے حسینؔ آخری حجت کو تمامپسرِ مصحفِ ناطق ہوں سنو میرا کلامسخنِ حق کی طرف کانوں کو مصروف کروشو باجوں کا مناسب ہو تو موقوف کرو
یہ صدا سنتے ہی خود رک گیا، قرنا کا خروشتھم گیا، طبلِ وغا کی بھی وہ آواز کا جوشہو گیا جوڑ کے ہاتھوں کو، جلاجل خاموشکیا بجاتے کہ بجا تھے نہ کسی شخص کے ہوشچھیڑنا ان کو سرودوں کا بھی ناساز ہوارعب فرزند نبیؐ سرمۂ آواز ہوا
کم ہوا غلغلۂ فوج ستم جب اک باریوں گہر بار ہوئے شہ کے لبِ گوہر بارصف کشی کس پہ ہے، یہ اے سپہِ ناہنجارقتل سادات کی، لشکر میں یہ کیسی ہے پکاروطن آواروں پہ، یہ قرق ہے کیوں پانی کاکیا زمانے میں یہی طور ہے مہمانی کا
مجھ کو لڑنا نہیں منظور، یہ کیا کرتے ہوتیر جوڑے ہیں جو مجھ پر تو خطا کرتے ہوکیوں نبی زادے پہ غربت میں جفا کرتے ہودیکھو اچھا نہیں یہ ظلم، برا کرتے ہوشمع ایماں ہوں، اگر سر مرا کٹ جائے گایہ مرقعِ ابھی اک دم میں الٹ جائے گا
میں ہوں سردارِ شبابِ چمنِ خلد بریںمیں ہوں خالق کی قسم دوشِ محمد کا مکیںمیں ہوں انگشتر پیغمبر خاتم کا نگیںمجھ سے روشن ہے فلک مجھے سے منور ہے زمیںابھی نظروں سے نہاں نور جو میرا ہو جائےمحفلِ عالمِ امکاں میں اندھیرا ہو جائے
قلزم عز و شرف کا درِ شہوار ہوں میںسب جہاں زیرِ نگیں ہے وہ جہاندار ہوں میںآج گو مصلحتاً، بیکس و ناچار ہوںورثۂِ احمدِ مختار کا، مختار ہوں میںبخدا دولتِ ایماں اسی دربار میں ہےسب بزرگوں کا تبرک مری سرکار میں ہے
یہ قبا کس کی ہے بتلاؤ یہ کس کی دستاریہ زرہ کس کی ہے، پہنے ہوں جو میں سینہ فگاربر میں کس کا ہے یہ چار آئینۂ جوہر دارکس کا رہوار ہے یہ آج میں جس پر ہوں سوارکس کا یہ خود ہے، یہ تیغِ دوسر کس کی ہےکس جری کی یہ کماں ہے، یہ سپر کی کی ہے
تنگ آئے گا تو رکنے کا نہیں پھر شبیرؔایک حملے میں فنا ہوں گے یہ دو لاکھ شریرچل سکیں گے نہ تبر مجھ پہ، نہ تلوار نہ تیرکاٹ جائے گی گلے سب کے یہ برّاں شمشیرشیر ہوں لختِ دل غالبِ ہر غالب ہوںمیں جگر بند علیؔ ابنِ ابی طالبؔ ہوں
مجھ کو ہوتا نہ اگر بخششِ امت کا خیالروک لیتا مجھے رستہ میں، یہ حر کی تھی مجالتھام سکتا تھا، لجامِ فرسِ برق مثالپوچھ لو دیکھا ہے اس نے، مرے شیروں کا جلالگفتگو میں سپر اس کی جو نہ ہم، ہو جاتےہاتھ اِک وار میں، پہونچوں سے قلم ہو جاتے
غیظ سے ہاتھ چباتے تھے علیؔ کے دلدارنیمچے تولتے تھے عون و محمد ہر باراگلی پڑتی تھی جگر بند حسنؔ کی تلوارمیں نے جب سر کی قسم دی تو رکے وہ جرارچلتی تلوار تو جنگل تہ و بالا ہوتاپھر نہ حُرؔ خلق میں ہوتا نہ رسالہ ہوتا
تھا یہ بپھرا ہوا عباسؔ مرا شیر جواںسینۂ حُرؔ پہ رکھے دیتا تھا، نیزے کی سناںمیں یہ کرتا تھا اشارہ کہ، نہ اے بھائی جاںرحم لازم ہے ہمیں، ہم ہیں امامِ دو جہاںکچھ تردد نہیں، سر تن سے اتارا جائےکوئی بندہ نہ مرے ہاتھ سے مارا جائے
گرچہ یہ امر نہیں، اہل سخا کے شایاںکہ کسی شخص کو کچھ دے کے کرے سب پہ عیاںپوچھ لو حرؔ تو ہے موجود، عیاں راچہ بیاںاسی جنگل میں، مع فوج تھا، یہ تشنہ دہاںشور تھا آج، چلیں جسم سے جانیں سب کیمنہ کے باہر نکل آئی تھیں زبانیں سب کی
زیست ہر شے کی ہے، پانی سے، شجر ہو کہ بشرمجھ سے دیکھا نہ گیا، میں تو سخی کا ہوں پسرمیں نے عباسؔ دلاور سے کہا، گھبرا کرمشکوں والے ہیں کہاں، اونٹ ہیں پانی کے کدھرکرم ساقیٔ کوثر کو دکھا دو بھائیجتنا پانی ہے وہ پیاسوں کو پلا دو بھائی
رہ نہ جائے کوئی گھوڑا کوئی ناقہ بے آبچھاگلیں جلد منگاؤ، مرا دل ہے بے تابسقے مشکیزوں کا منہ کھول کے آ پہونچے شتابمتوجہ ہوا میں خود کہ، وہ تھا، کارِ ثوابچین آیا نہ مجھے، بے انہیں آرام دیئےتھا جو اک جام کا پیاسا، اسے دو جام دیئے
تھی یہی فصل یہی دھوپ یہی گرم ہواٹھنڈے پانی پہ گرے پڑتے تھے، حُرؔ کے رفقاتشنہ کاموں کا یہ مجمع تھا کہ ملتی نہ تھی جاسقے بھر بھر کے کٹوروں کو یہ دیتے تھے صدابھائیو آؤ، جو پانی کی طلب گاری ہےچشمۂ فیضِ حسینؔ ابنِ علیؔ جاری ہے
آبِ شیریں کا جو دریا ہوا جنگل میں رواںفرس و اشتر، و قاطر نہ رہے تشنہ دہاںشکر کرنے لگے تر ہو گئی، ہر خشک زباںپانی پی پی کے دعائیں مجھے دیتے تھے جواںشور تھا ابنِ یداللہ نے جاں بخشی کیدین و دنیا کے شہنشاہ نے جاں بخشی کی
ایک دن وہ تھا اور اک دن یہ ہے، اللہ اللہکہ اسی طرح، ہمیں پیاس میں، پانی کی ہے چاہچشم امید ہو کیا، سب نے پھرالی ہے نگاہکوئی اک جام بھی بھر کر ہمیں دیتا نہیں آہہر مسلماں پہ نبیؐ زادے کا حق ہوتا ہےبچے روتے ہیں تو سینہ مرا شق ہوتا ہے
کئی معصوم ہیں کمسن جو موئے جاتے ہیںدم اکھڑتا ہے مرا جب انہیں غش آتے ہیںپانی پانی جو وہ کہتے ہیں تو شرماتے ہیںپاس دریا ہے پہ اک بوند نہیں پاتے ہیںسچ ہے غربت کی عجب شام و سحر ہوتی ہےتیسرا دن ہے، کہ فاقوں میں بسر ہوتی ہے
شہ کہ مظلومی پہ گریاں ہوئی ظالم کی سپاہعمرِ سعدؔ نے کی، مڑ کے رخِ حُرؔ پہ نگاہبولا وہ اشہد باللہ، بجا کہتے ہیں شاہمحسن و منعم و آقا ہے مرا یہ ذی جاہاِن کے احسان کا کیوں کر کوئی منکر ہو جائےسخن حق میں جو شک لائے وہ کافر ہو جائے
ایک میں کیا ہوں، زمانے پہ ہے احساں اِن کاابرِ رحمت ہیں خطا پوش ہے داماں، اِن کاخشک و تر پر ہے کرم، خلق میں، یکساں ان کاہے خوشا حال جو غربت میں ہو مہماں ان کاجنّتی ہے جسے حاصل یہ شرف ہوجائےجو ادھر ہو گا خدا اس کی طرف ہو جائے
یہ ابھی ہاتھ اٹھا کر جو دعا فرمائیںجتنے عالم کے گنہگار ہیں بخشے جائیںحق سے جس شے کے طلب گار ہوں، فوراً پائیںجامِ کوثر یہیں فردوس سے حوریں لائیںمثلِ خورشید ہے روشن وہ شرف ان کا ہےیہ وہ بندے ہیں، کہ اللہ پہ حق جن کا ہے
ان سے قطرہ کوئی مانگے تو گہر دیتے ہیںہیں سخی ابنِ سخی بات پہ سر دیتے ہیںپیٹ سائل کا یہ فاقوں میں بھی بھر دیتے ہیںیاں تور زر دیتے ہیں، فردوس میں گھر دیتے ہیںآس مجرم کی، گنہ گار کی امید ہیں یہذرہ پرور جنہیں کہتے ہیں، وہ خورشید ہیں یہ
حُرؔ سے گھبرا کے یہ بولا عمرِؔ سعدِ شریریہ تو ہے صاف طرفداریِٔ شہ کی تقریراپنے حاکم کا نہ کچھ ذکر نہ تعریفِ امیراللہ اللہ یہ اوصاف، یہ مدحِ شبیرسن چکا ہوں میں، کہ مضطر ہے کئی راتوں سےالفتِ شاہ ٹپکتی ہے تری باتوں سے
نہ وہ آنکھیں، نہ وہ چتون، نہ وہ تیور، نہ مزاجسیدھی باتوں میں بگڑنا یہ نیا طور ہے آجتخت بخشا ہے محمدؐ کے نواسے نے کہ تاججن کو سمجھا ہے غنی دل میں، وہ خود ہیں محتاجکون سا باغ تجھے شاہ نے دکھلایا ہےکہیں کوثر کے تو چھینٹوں میں نہیں آیا ہے
کیا کسی حور کا، دکھلا دیا، حضرت نے جمالملک گیا سایۂ طوبیٰ کہ جو ایسا ہے نہالقصرِ یاقوت میں پہونچا، جو ترا رنگ ہے لالکون سے میوۂ شیریں پہ ٹپکتی ہے رالدفعتہً حقِّ نمک کو بھی فراموش کیاکیا تجھے بادۂ تسنیم نے بے ہوش کیا
میں جہاں دیدہ ہوں، سب مجھکو خبر ہے تیریقرّۃالعین محمدؐ پہ نظر ہے تیریہونٹ بھی خشک ہیں اور چشم بھی تر ہے تیریجسم خاکی ہے اِدھر، جان اُدھر ہے تیریراہ میں کچھ جو سلوک اور نوازش کی ہےتو نے فرزندِ ید اللہ سے سازش کی ہے
خیر مخفی نہ رہے گا یہ قصور اور فتورلکھیں گے عہدۂ اخبار پہ جو ہیں مامورحاکمِ شام ہے جابر، وہ سزا دے گا ضرورگر تجھے دار پہ کھینچے، تو کچھ اس سے نہیں دورسب تری قوم کے سر تن سے جدا ہوئیں گےزن و فرزند، گرفتارِ بلا ہوئیں گے
نفع اس امر میں جس میں میں ہو مردم کا ضررآنکھیں نکلیں گی، محبت سے جو دیکھے گا اُدھرشجرِ قامتِ سرور پہ، جو ڈالے گا نظرسر چڑھے گا ترا برچھی پہ، یہ ہے اس کا ثمرالفتِ زلف سے بھی پیچ میں تو آئے گاخال رخ دیکھا، تو گھر خانصے لگ جائے گا
بدرِ پیشانیٔ سرور کا ہے جو سر میں خیالتو اسی ماہ میں نقصاں ترا ہوئے گا کمالسب میں ہو جائے گا انگشت نما شکل ہلالتیر و شمشیر ہے، ابرو کی محبت کا مآلعشق رخسار میں، رتبہ ترا گھٹ جائے گامنہ پہ کہتا ہوں کہ چہرہ ابھی کٹ جائے گا
خوف کس بات کا پیاسوں سے یہ تھرّانا کیالب پہ ہر مرتبہ، بیکس کی ثنا لانا کیاننگ کی بات ہے دشمن کی طرف جانا کیاہو نبی یا کہ وصی جنگ میں شرمانا کیاابھی لے جائیں جو شبیر کا سر ہاتھ لگےخلد ہم اس کو سمجھتے ہیں کہ زر ہاتھ لگے
حرؔ پکارا کہ زباں بند کراو نا ہموارقابلِ لعن ہے تو اور وہ تیرا سردارابن زہراؔ ہے جگر بند رسولِ مختارمیرا کیا منہ جو کروں مدحِ امامِ ابراراک زمانہ صفِت آلِ عبا کرتا ہےآپ قرآں میں خدا ان کی ثنا کرتا ہے
وصف ایسوں کا زباں پر کوئی کیونکر لائےتین سو آئے ہوں، تعریف میں جن کی، آئےکسی انساں نے یہ دنیا میں ہیں رتبے پائےاپنا محبوب و ولی جس کو خدا فرمائےالفتِ آل میں مریئے تو خوش اقبالی ہےسنگ ہے ان کی محبت سے جو دل خالی ہے
اسفلوں سے ہے محبت تجھے اور سفلہ مزاجخاک پا اس کی ہوں میں ہے جو سرِ عرش کا تاججس کو کاندھے پہ محمدؔ کے ملی ہے معراجمیرے آقا سا سخی کون ہے کونین میں آجکیوں ترے سامنے مکروں کو نہیں بخشا ہےہاں، مجھے شاہ نے، فردوس بریں بخشا ہے
باغ جو مجھ کو دکھایا اسے کیا جانے توراحتِ روح ہے، جس باغ کے ہر پھول کو بومجھ کو اللہ نے بخشیں ہیں وہ حوریں خوش روکہ جنہیں تیرے فرشتوں نے نہ دیکھا ہو کبھونام کوثر کا نہ لے تو مجھے جوش آتا ہےانہیں چھینٹوں سے تو بیہوش کو ہوش آتا ہے
عزتِ دیں شرفِ کون و مکاں ہیں شبیرؔجانِ زہراؔ ہیں محمدؐ کی زباں ہیں شبیرؔسنگ پانی ہو، وہ اعجاز بیاں ہیں شبیرؔجان کیوں ہو نہ ادھر، جانِ جہاں ہیں شبیرؔمہرباں ہوں تو ابھی عقدہ کشائی ہووےوہ نہ بخشیں تو خدا تک نہ رسائی ہووے
کیا میں اور کیا وہ ریاست مری، کیا میرے عیالجبکہ آفت میں پھنسے احمدِ مختار کی آلداں کی املاک و زراعت کا ہو کیا مجھ کو خیالیاں ہوئی جاتی ہے سادات کی کھیتی پامالگھر کا اب دھیان نہ بچوں کا الم ہے مجھ کوخانہ بربادیِٔ شبیرؔ کا غم ہے مجھ کو
دولتِ حاکم دوں پر ہے ترا دار و مداردارِ دنیا سے تعلق نہیں رکھتے، دیں دارکیا مجھے دار پہ کھنیچے گا، وہ ظالم غدارخوابِ غفلت ہے اسے او مرے طالع بے دارکسی سردار نے یہ اوج نہ پایا ہوگادارِ طوبیٰ کا مرے فرق پہ سایہ ہوگا
ہے سر افراز سدا عاشق پیشانیِٔ شاہسجدے کیجے کہ ہے بیت ابروؤں کی بیت اللہعشق آنکھوں کا ہے مردم کے لئے نورِ نگاہہے وہ یوسف جسے ہو مصحفِ رخسار کی چاہعاشق لب کو خدا لعل و گہر دیتا ہےوہ دہن، چشمۂ کوثر کی خبر دیتا ہے
خالِ رخسار نہیںِ گوئے سعادت ہے یہمجھ سے مجرم کے لئے مہر شفاعت ہے یہہوں جو آشفتۂ گیسو تو عبارت ہے یہبخدا سلسلۂ بخششِ امت ہے یہشب معراجِ رسولِ دو جہاں سمجھا ہوںاس کے ہر تار کو میں رشتۂ جاں سمجھا ہوں
وصفِ دنداں میں زبان جس کی رہے گوہر بارموتیوں سے دہن اس شخص کا بھر دے غفارشوق میں سیب ذقن کے جسے آئے نہ قرارحوریں غرفے سے دکھائیں اسے رنگِ رخساردم بہ دم چاہنے والوں کے لہو گھٹتے ہیںیہ گلا وہ ہے گلے، جس کے لئے کٹتے ہیں
صدقے اُس سینے پہ ہیں، عاشقِ صافی سیناخاک اس دل پہ جو اس سینے سے رکھے کیناحق نما ہے تو جہاں میں ہے یہی آئینااس کا عاشق ہو تو، ہوں کور کی آنکھیں بینافیض پاتا ہے وہ دل جس میں ولا ہوتی ہےچشم کو اس کی زیارت سے جلا ہوتی ہے
پاؤں یہ وہ ہیں کہ ان پاؤں کو جو ہاتھ لگائےتو سر دست سر افرازیِٔ کونین وہ پائےگردِ نعلین مبارک، جو اثر اپنا دکھائےتوتیا ہوئے خجل، کحلِ جواہر شرمائےصدقے کر دیں گے سر ان پاؤں پہ ہم ایسے ہیںدوشِ احمدؔ پہ رہے جو، یہ قدم ایسے ہیں
عملِ خیر سے بہکا نہ مجھے او ابلیسیہی کونین کا مالک ہے یہی راس و رئیسکیا مجھے دے گا ترا حاکم ملعون و خسیسکچھ تردد نہیں کہہ دے کہ لکھے پرچہ نویسہاں سوئے ابنِ شہنشاہ عرب جاتا ہوںلے ستمگر، جو نہ جاتا تھا تو اب جاتا ہوں
کہہ کے ڈاب سے غازی نے نکالی تلوارسرخ آنکھیں ہوئی ابرو پہ بل آئے اک بارتن کے دیکھا طرفِ فوجِ امامِ ابرارپاؤں رکھنے لگا بن بن کے زمیں پر رہوارغل ہوا سیدِ والا کا ولی جاتا ہےلو طرف دار حسینؔ ابنِ علیؔ جاتا ہے
حرؔ نے نعرہ کیا، یا حیدرؔ صفدر مددےوقتِ امداد ہے، یا فاتحِ خیبر مددےزوجِ زہراؔ مددے، نفس پیمبر مددےبندۂ آل ہوں، یا خواجۂ قنبر مددےتنِ تنہا ہے غلام، اور بہت اظلم ہیںآئی آواز کہ اے حرؔ ترے حامی ہم ہیں
مل گئی راہِ خدا واہ رے اقبال تراپاک عصیاں سے ہوا نامۂ اعمال تراجرمِ ماضی ہوئے سب عفو خوشا حال تراجلد جا جلد کہ شائق ہے مرا لال ترامرد ہے جس کی یہ ہمت یہ ارادہ ہووےہاں بہادر تری توفیق زیادہ ہووے
منتظر ہیں ترے سب فوجِ حسینی کے جواںدرِ فردوس پہ مشتاق کھڑا ہے رضواںراہ تکتی ہیں تری دیر سے حورانِ جناںشور کوثر پہ ہے شبیرؔ کا مہماں ہے کہاںفوجِ قدسی تری ہمت کی ثنا کرتی ہےفاطمہؔ آج ترے حق میں دعا کرتی ہے
تو بہشتی ہے، یہ کافر ہیں کنشتی اے حرؔمٹ گئی سب ترے اعمال کی زشتی اے حرؔدیکھ اب صورتِ حورانِ بہشتی اے حرؔکس تلاطم میں بچی ہے تری کشتی اے حرؔغضب اللہ کا شبیرؔ کی ناراضی ہےپنجتن تجھ سے ہیں راضی تو خدا راضی ہے
اور بالیدہ ہوا سن کے یہ مژدہ وہ حزبردل بیتاب پکارا کہ نہیں طاقتِ صبراب تو اس فوج میں اک دم کی بھی تعویق ہے جبرقعرِ دوزخ ہے، مسلماں کے لئے صحبت گبرہاں اٹھا باگ، جو شیدائے شہِ عالی ہےفوج اللہ و نبی میں تری جا خالی ہے
سن کے یہ باگ جو لی، اسپ سبک تاز اڑاڈر سے رنگِ عمرِ شعبدہ پرواز اڑاکیا اڑا رخش، کہ طاؤس بصد ناز اڑادی پرندوں نے یہ آواز کہ شہباز اڑاباغِ زہراؔ میں، نسیم سحری جاتی ہےغل تھا دربار سلیماں میں پری جاتی ہے
کیا دو تین رسالوں نے تعاقب ہر چندحرؔ کا ہاتھ آنا تو کیسا نہ ملی گردِ سمندکہتے تھے شرم سے وہ لے کے جو دوڑے تھے کمندیہ چھلاوا تھا کہ آندھی، یہ فرس تھا کہ پرندکیا سبک سوئے چمن بادِ بہاری پہونچیہم یہیں رہ گئے واں حرؔ کی سواری پہونچی
یاں ہوئے علمِ امامت سے شہِ دیں آگاہہنس کے عباسؔ سے فرمایا کہ اے غیرتِ ماہمیرے لشکر کی طرف ہے رخِ حرّ ذی جاہسب سے کہہ دو کہ نہ روکے کوئی اس شخص کی راہجاؤ لینے کو عجب رتبہ شناس آتا ہےمیرا مہماں، مرا عاشق، مرے پاس آتا ہے
ذکر یہ تھا کہ صدا دور سے آئی اِک بارالغیاث اے جگر و جانِ رسولِ مختارمجرم ایسا ہوں، کہ عصیاں کا نہیں جس کے شمارعفو کر عفو کر، اے چشمۂ فیضِ غفارپار دریائے خطا سے مری کشتی ہو جائےدوزخی بھی ترے صدقے سے بہشتی ہو جائے
کئی روزوں سے تلاطم میں ہوں، اے شاہنشاہمدد اے نوحِ غریباں، مرا بیڑا ہے تباہدست و پا گم ہیں کچھ ایسے کہ نہیں سوجھتی راہشور کرتا ہوں کہ بتلائے کوئی جائے پناہابرِ رحمت کی طرف جا یہ صدا دیتے ہیںسب ترے دامنِ دولت کا پتا دیتے ہیں
ترے دامن کے نثار اے مرے آقائے جلیلرحم کر رحم کہ شرمندہ ہے یہ عبد ذلیلدل خنک ہوئے جو نکلے کوئی کوثر کی سبیلجان آ جائے جو مولائے دو عالم ہوں کفیلنہ وزیروں میں یہ ہمت نہ شہنشاہ میں ہےسب مرے درد کا درماں، تری درگاہ میں ہے
خلق میں آپ کے والد کا کرم ہے مشہوربات میں بخش دیئے سینکڑوں بندوں کے قصورمجھ سے ہیں باگ پکڑ لینے پہ آزردہ حضوربخش دیجے تو کرم سے نہیں کچھ آپ کے دوریہ تو کیونکر کہوں، میں لائقِ تعزیر نہیںمگر اسود سے زیادہ مری تقصیر نہیں
اے مددگار و معین الضعفا، ادرکنیاے خبر گیر گروہ غربا، ادرکنیپاؤں لغزش میں ہیں اے دست خدا ادرکنیہاتھ باندھے ہوں میں اے عقدہ کشا، ادرکنیدیجئے حر کو سند نار سے آزادی کیآیئے جلد خبر لیجئے فریادی کی
مرے اعمال میں ہر چند سراسر ہے بدیہوں گہنگارِ خدائے ازلی و ابدیآپ ہیں مالکِ سرکارِ جنابِ احدیاے خداوندِ جہاں خُذ بیدی خُذ بیدیجو تہی دست ہیں تکتے ہیں شہنشاہ کا ہاتھآپ کا ہاتھ زمانے میں ہے اللہ کا ہاتھ
ایک یہ خستہ تن اور درپئے جاں لاکھ حریفاے سلیماں کہیں پامال نہ ہو مورِ ضعیفچھوڑ کر آپ کی سرکار، کہاں جائے نحیفکیجئے اب نظر لطف، کہ ہوتا ہے خفیفہوں سرافراز جو اتنا ہی کرم ہو جائےنام قنبرؔ کے غلاموں میں رقم ہو جائے
استغاثہ یہ کیا حُرؔ نے جو بادیدۂ نمآ گیا جوش میں اللہ کا دریائے کرمخود بڑھا ہاتھوں کو پھیلائے ہوئے شہنشاہِ اممحرُ کو یہ ہاتفِ غیبی نے صدا دی اس دمشکر کر سبط رسول الثقلین آتے ہیںلے بہادر ترے لینے کو حسین آتے ہیں
حرُ نے دیکھا کہ چلے آتے ہیں پیدل شبیرؔدوڑ کر چوم لئے پائے شہ عرشِ سریرشہ نے چھاتی سے لگا کر کہا اے با توقیرمیں نے بخشی، مرے اللہ نے بخشی تقصیرمیں رضا مند ہوں کس واسطے مضطر ہے تومجھ کو عباسؔ دلاور کے برابر ہے تو
کس کے کیوں باندھا ہے ہاتھوں کو میں ہوتا ہوں خجلسہل کر دیں اسے گر اور کوئی ہو مشکلبھائی آ، مجھ سے بغل گیر تو ہو، کھول کے دلغافر و راحم و تواب ہے ربِ عادلجرم سب محو کئے حق نے ترے دفتر سےآج پیدا ہوا گویا شکمِ مادر سے
حرؔ پکارا بابیِ انت و امی یا شاہقابل عفو نہ تھے بندۂ آثم کے گناہمجھ سے گمراہ کو اک آن میں مل جائے یہ راہسب ہے صدقہ انہیں قدموں کا خدا ہے آگاہمہر ذرے پہ جو ہو نیرِ تاباں ہو جائےآپ جس مور کو چاہیں وہ سلیماں ہو جائے
کون مقدادؔ تھے سلمانؔ و آباذرؔ تھے کونآپ فرمائیں کہ عمارِؔ دلاور تھے کونشور عالم میں جو ہے، مالکِؔ اشتر تھے کوناے خداوندِ جہاں حضرتِ قنبرؔ تھے کونانہیں قدموں کا تصدق تھا کہ ممتاز ہوئےاسی سرکار کے خلعت سے سر افراز ہوئے
شہ نے فرمایا کہ خالق کی عنایت ہے یہ سبدے کسی شخص کو بندے میں یہ مقدور ہے کباس مسبب کی عنایت کے یہ سارے ہیں سببوہی منعم، وہی محسن، وہی رازق، وہی رباپنے کیسے سے نہ دام اور درم دیتے ہیںجب وہ خالق ہمیں دیتا ہے تو ہم دیتے ہیں
لاکھ ہاتھ اس کے ہیں دینے کے وہ ایسا ہے جوادہم اسے بھولیں تو بھولیں، وہ ہمیں رکھتا ہے یادرزق وہ حوصلۂ حرص سے دیتا ہے زیادشکر کرتے نہیں معبود کا اس پر بھی عبادوہ غنی ہے کہ ہے محتاج زمانہ اس کاکبھی خالی نہیں ہوتا ہے خزانہ اس کا
جس قدر اس سے طلب کیجئے خوشنود ہے وہصاحبِ جود ہے وہاب ہے، محمود ہے وہہاتھ پھیلائے جو سو بار تو، موجود ہے وہبخش دیتا ہے کہ ہم عبد ہیں، معبود ہے وہپرورش جرم پہ بھی، صبح و مسا ہوتی ہےیاں سے ہوتی ہے خطا واں سے عطا ہوتی ہے
کہہ کے یہ ساتھ لئے حُرؔ کو چلے شاہِ اممہاتھ میں ہاتھ تھا مہمان کا، اللہ رے کرمراس و چپ قاسمؔ و اکبرؔ تھے، زہے شان و حشمسر پہ کھولے ہوئے تھے حضرتِ عباس علمدورسے اہلِ خطا، تیر جو برساتے تھےرفقا سائے میں ڈھالوں کے لئے آتے تھے
لائے اس عزت و حرمت سے جو مہماں کو امامبولے عباس کمر کھول، اب اے نیک انجامشہ نے فرمایا مناسب ہے کوئی دم آرامعرض کی حُرؔ نے کمر خلد میں کھولے گا غلامفاتحہ پڑھ کے، یہ شمشیر و سپر باندھی ہےآج اس عزم پہ خادم نے کمر باندھی ہے
ہے بہت شمر و عمر سے مجھے لڑنے کی امنگایک ہی وار میں دونوں کا کروں گا چورنگلشکرِ شام سے پہیم چلے آتے ہیں، خدنگشاہزادوں کے سپر ہوں، کہ عبادت ہے جنگلیکن ایسا نہ ہو بچہ کوئی بے جاں ہو جائےپہلے یہ تازہ غلام آپ پہ قرباں ہو جائے
شہ نے فرمایا کہ دشوار ہے فرقت تیریمجھکو مر کر بھی نہ بھولے گی محبت تیریوا دریغا، ہوئی کچھ ہم سے نہ خدمت تیریخیر فردوس میں ہو جائے گی دعوت تیریآج رتبہ ترا خیلِ شہدا میں ہوگاشب کو تو صحبتِ محبوب خدا میں ہوگا
تجھ پہ مخفی نہیں ہفتم سے جو کچھ ہے مرا حالراہیں ہر سمت کی روکے ہوئے ہیں اہلِ ضلالقحط پانی کا ہے اس دشت میں گندم کا ہے کالنانِ جو کا بھی ہے ملنا کسی قریے میں محالسب کو ایذا عوضِ آب و غدا ملتی ہےدودھ اصغرؔ کو نہ عابدؔ کو دوا ملتی ہے
حُرؔ نے رو کر سرِ تسلم جھکایا بہ ادبشہ نے رومال رکھا آنکھوں پہ رونے لگے سبجب چڑھا گھوڑے پہ وہ عاشقِ سلطانِ عربشاہ بولے کہ عجب دوست چھٹا ہائے غضبدم بہ دم یاں سے جو آوازِ بکا جاتی تھیگریۂ آلِ محمد کی صدا آتی تھی
حُرؔ چلا فوج مخالف پہ اڑا کے توسنچوکڑی بھول گئے جس کی تگاپو سے ہرنوہ جلال اور وہ شوکت، وہ غضب کی چتونہاتھ میں تیغ، کماں دوش پہ بر میں جوشندوسرے دوش پہ شملے کے جو بل کھاتے تھےکاکلِ حور کے سب پیچ کھلے جاتے تھے
زور بازو کا نمایاں تھا بھرے شانوں سےدستِ فولاد دبا جاتا تھا دستانوں سےبرچھیوں اڑتا تھا دب دب کے فرس رانوں سےآنکھ لڑ جاتی تھی، دریا کے نگہبانوں سےخودِ رومی کی، جو ضو، تابہ فلک کھاتے تھےچشمِ خورشید میں بجلی سی چمک جاتی تھی
نیزۂ حُرؔ کی سناں پر نہ ٹھہرتی تھی نگاہتھا یہ ظاہر کہ نکالے ہے زباں مارِ سیاہقبضۂ تیغ پہ رکھے تھی سر عجز پناہآفتابی وہ سپر، جس سے خجل گردۂ ماہقدر اندازوں کو جانوں کے ادھر لالے تھےتیر ترکش میں نہ تھے آگ کے پرکالے تھے
رن میں جب شہ کی طرف سے حُرِؔ دیں دار آیاکس بشاشت سے اڑاتا ہوا رہوار آیاغل ہوا سید مظلوم کا، غم خوار آیاجاں نثارِ خلفِ حیدرِ کرّار آیاتتّق نور سرِ راہ نظر آتا ہےجلوۂ قدرتِ اللہ نظر آتا ہے
آنے جانے کا بہادر کے کروں کیا مذکورپہلے کچھ اور ہی جلوہ تھا، پر اب اور ظہوراے خوشا رتبہ فیضِ قدمِ پاک حضورغل تھا آتا ہے ملک پہنے ہوئے خلعتِ نورصحبت اہلِ ولا، دل کو جلا کرتی ہےمس کو اک آن مین اِکسیر طلا کرتی ہے
واہ کیا فیض ہے، سرکارِ شہِ عالم میںذرۂِ خاک کو خورشید کیا، اک دم میںنور یہ حور میں دیکھا، نہ بنی آدم میںیہ وہی حُرِؔ جری ہے جو ابھی تھا ہم میںتن ہے خوش بو، رخِ گل رنگ تر و تازہ ہےخاک نعلینِ مبارک کی عجب غازہ ہے
مہر ذرہ ہے جہاں، چہرۂ روشن ایساچاند بھی جس سے کرے کسبِ ضیا، تن ایساحرز ہو، بازوئے داؤد کا، جوشن ایساہوش پریوں کے اڑے جاتے ہیں توسن ایساگلشنِ دہر میں لو بادِ بہاری آئیقاف میں غل ہے، سلیماں کی سواری آئی
حُرؔ پکارا کہ بجا کہتے ہو بے شک لاریبدامنِ حضرتِ شبیرؔ نے ڈھانپے مرے عیبدولتِ دیں سے نہ دامن مرا خالی ہے نہ جیببارک اللہ کی دیتا ہے صدا ہاتفِ غیبفیض پا کر پئے شمشیر زنی آیا ہوںیاں سے محتاج گیا واں سے غنی آیا ہوں
مجھکو خورشید کیا نورِ خدا کی ضو نےنور بخشا قمرِ فاطمہؔ کے پرتو نےبخت پائے ہیں سکندرؔ کے غلامِ نو نےگنج وہ لایا ہوں دیکھا جو نہ تھا خسرو نےدَور دَور آج سے میرا ہے، زمانہ میراکبھی خالی نہیں ہونے کا خزانہ میرا
رخِ روشن کو مرے تکتے ہو کیا حسرت سےمَل کے آیا ہوں منہ اپنا قدمِ حضرت سےنور وہ ہے جسے دیکھیں، نظرِ رغبت سےوائے وہ لوگ، جو محروم ہیں اس دولت سےمجھکو بھی دیکھ کے بیدار نہیں ہوتے ہوہے غضب آنکھیں تو کھولے ہو، مگر سوتے ہو
جانِ سلطانِ رسالت کو غنیمت جانوپسرِ شاہِ ولایت کو غنیمت جانونورِ خالق کی زیارت کو غنیمت جانوقمر برج امامت کو غنیمت جانوساتھ اس کے برکت خلق سے اٹھ جائے گیپھر جو ڈھونڈو گے یہ دولت تو نہ ہاتھ آئے گی
ایک سید کے مٹا دینے میں ہے کون سا ناماس ہوا پر ہو کہ بجھ جائے چراغِ اسلامگر ہو دانا تو کہو بد ہے کہ ہے نیک یہ کامخوش نما کب ہے وہ تسبیح، نہ ہو جس میں امامشکرِ احسانِ جناب احدی کرتے ہیںپیشوا سے، کہیں پیرو بھی بدی کرتے ہیں
یہ سخن سن کے پکارا پسرِ سعد شریرہاں طرف دارِ شہِ دیں پہ چلیں نیزہ و تیرلئے حربوں کو بڑھا فوج کا انبوہِ کثیرفاتحہ پڑھ کے جواں مرد نے کھینچی شمشیرحُرؔ کا منہ سرخ ہوا، فوجِ ستم زرد ہوئیشعلۂ تیغ سے بجلی کی چمک گرد ہوئی
رعد تھرا گیا نعرے جو سنے ضیغم کےاستخواں کانپ گئے زیرِ زمیں رستم کےتہ و بالا ہوئیں لشکر کی صفیں جم جم کےبرقِ شمشیر سے ڈر ڈر کے فرس بھی چمکےنوبتِ جنگ نہ آئی تھی کہ دل ٹوٹ گئےبیرقیں گر گئیں ہاتھوں سے نشاں چھوٹ گئے
چھیڑ کر باگ، فرس کو جو ذرا گرمایاغیظ میں آن کے گھوڑا بھی غضب کف لایاشیر سا فوجِ مخالف پہ جھپٹ کر آیاروند ڈالا اسے دم میں جسے سرکش پایااس کا قاتل تھا جو دشمن شہِ عالی کا تھاکاٹ ہر نعل میں شمشیر ہلالی کا تھا
حشر برپا تھا کہ تیغِ حُؔرِ ذی جاہ چلیآگ برسانے کو بجلی سوئے جنگاہ چلیکس کرشمے سے وہ لیلیٰ ظفر، راہ چلیگہ تھمی گاہ بڑھ گاہ رکی گاہ چلیزخم سینوں کے گریباں کی طرح پھٹتے تھےچال کیا تھی کہ ہزاروں کے گلے کٹتے تھے
کیں صفیں صاف، مگر منہ کی صفائی نہ گئیکج ادائی کو نہ چھوڑا، وہ لڑائی نہ گئیکاٹ چھانٹ اور وہ لگاوٹ وہ رُکھائی نہ گئیسیکڑوں خون کئے اور کہیں آئی نہ گئیشور تھا برق، پئے جلوہ گری نکلی ہےجان لینے کو اجل بن کے پری نکلی ہے
جس طرف دیدۂ جوہر سے نظر کرتی ہےپل نہ گذرے کہ صفیں، زیر و زبر کرتی ہےچشم ہر چند کہ پتلی کو، سپر کرتی ہےہے وہ طرار، کہ آنکھوں میں یہ گھر کرتی ہےاس کے افسوں سے جو ساحر ہو تو جل جاتا ہےسحر پریوں کا اسی طرح سے چل جاتا ہے
پھونکے بجلی کو یہ اس آگ کی ہے، پرکالاکاٹ جائے تو کبھی لہر نہ لے پھر کالابرچھیاں چل گئیں اس پر جسے دیکھا بھالاآ گیا دام میں جس شخص پہ ڈورا ڈالااس کے پانی مین کفِ مارِ سیہ گھولا ہےباڑھ ہے یا ملک الموت نے منہ کھولا ہے
آئی جس غول پہ لاشوں سے زمیں پاٹ گئیدست و پا، صدر و کمر، گردن و سر کاٹ گئیچاٹ ایسی تھی لہو کی، کہ صفیں چاٹ گئیدیکھی تیغوں کی جدھر باڑھ، اسی گھاٹ گئیجس پہ جاتی تھی، نہ بے جان لئے پھرتی تھیایک بجلی تھی، مگر لاکھ جگہ گرتی تھی
گل نئے پھولے جو برچھی پہ لگا پھل اس کازور دکھلاتا تھا، ہر ضرب میں کس بل، اسڈھیر تھا خاک پہ کاٹا ہوا جنگل، اس کاجو بڑھا جنگ میں قصہ ہوا فیصل اس کاشور تھا دیکھئے کیوں کر یہ بلا ٹلتی ہےاس قدر جلد تو سیفی بھی نہیں چلتی ہے
جنگ میں تیغ کو دعویٰ تھا کہ یکتا ہوں میںسر اٹھایا تھا یہ گھوڑے نے کہ عنقا ہوں میںچرخ کہتا تھا کہ یارب تہ و بالا ہوں میںبرق کہتی تھی کہ تلوار ہے یہ، یا ہوں میںکس میں ہے یہ جو تڑپ زیر فلک میری ہےتیغ کرتی تھی اشارہ یہ چمک میری ہے
نہ تھمی سنگ سے وہ اور نہ رکی آہن سےہاتھ اڑا لے گئی پہونچوں سے تو سر گردن سےنہ اٹھی اس کی کڑی ضرب، کسی جوشن سےچل گئی بادِ مخالف جدھر آئی، سن سےجوش طوفاں کا دکھا کر وہ خوش اسلوب گئیخوں کے دریا میں ہر اک کشتیٔ تن ڈوب گئی
کثرتِ جوہرِ ذاتی سے گو وہ جال میں تھیپر تڑپ صورتِ ماہی وہی ہر حال میں تھیتھی چمک جانے میں بجلی، تو پری چال میں تھیکبھی مغفر میں، کبھی سر میں، کبھی ڈھال میں تھیکہیں دم لینے کی مہلت تھی نہ بسمل کے لئےتھی جگر کے لئے برچھی تو چھری دل کے لئے
صید کرنے کو جدھر صورتِ شہباز آئیلاکھ تڑپا پہ نہ بے جان لئے باز آئیغل ہوا شہپرِ شاہیں کے تلے، قاز آئیاڑ گیا طائرِ جاں اور نہ آواز آئیگرچہ قبضے میں لئے تھی اسے پر چھوڑ دیاتھا زبس صیدِ زبوں، کاٹ کے سر چھوڑ دیا
آب نے آتش سوزاں کا اثر دکھلایاتاب نے مرگ مفاجات کا گھر، دکھلایاباڑھ نے جادۂ صحرائے سقر، دکھلایاکھاٹ نے آئینۂِ فتح و ظفر دکھلایاتیغ کہتی تھی در فتح کی مفتاح ہوں میںقول قبضے کا یہ تھا قابضِ ارواح ہوں میں
خم وہ پایا تھا کہ شرمائے ہلالِ مہِ عیدحُرؔ کے ہاتھ آ گئی تھی گلشنِ جنت کی کلیدبرش ایسی تھی کہ کٹ کٹ گئی سب فوجِ یزیدجامۂ کفر کے پرزے تھے زہے قطع و بریدنہ بچا تارِ نفس خلق میں، جینے کے لئےچاک زخموں کے فقط رہ گئے سینے کے لئے
کئی حملے کئے پیہم جو کمانداروں پرچل گئے تیر ملامت کے خطا کاروں پرچٹکیاں سب کی دھری رہ گئیں سوفاروں پررخ پھرا تھا کہ گری برق ستم گاروں پرجل کے خرمن ہوا یوں خاک کو خوشہ نہ ملاکشمکش میں کہیں چھپنے کا بھی گوشہ نہ ملا
نیزۂ فوجِ ستمگار تھے دیکھے بھالےدم میں اس شیر نیستاں نے قلم کر ڈالےگرچہ تھے جان لڑائے ہوئے لڑنے والےآفتِ مرگ کو سر سے کوئی کیوں کر ٹالےجب سواروں کے پرے جنگ پہ تُل جاتے تھےبند سب ناخنِ شمشیر سے کُھل جاتے تھے
الف گرز کو کر دیتی تھی ہر ضرب میں، دالتھی ئی آمد و رفت اور نئی طرح کی چالکہیں برچھی کی اَنی تھی تو کہیں تیر کی بھالکہیں تلوار، کہیں خنجرِ برّاں، کہیں ڈھالضرب کو روک کے دشمن کو فنا کرتی تھیدم بہ دم فوج ستم گر بھی ثنا کرتی تھی
شور تھا آگ ہے تلوار میں یا پانی ہےجل بجھی کشتیٔ تن خون میں طوفانی ہےضرب میں فرد ہے یہ زور میں لاثانی ہےکہتا تھا حُرؔ یہ فقط قوتِ ایمانی ہےزور تھا مجھ میں نہ ایسا، نہ وغا کی طاقتسب ہے یہ سبطِ پیمبر کی دعا کی طاقت
کہہ کے یہ فوج میں پھر تشنہ جگر ڈوب گیاورطۂ قلزم آفت میں گہر ڈوب گیالشکرِ شام کے بادل میں قمر ڈوب گیاکشمکش تھی کہ عرق میں گلِ تر ڈوب گیاتھا کبھی شیر سا بپھرا ہوا شمشیروں میںکبھی نیزوں کے نیستاں میں کبھی تیروں میں
گہ چھپا اور کبھی نکلا وہ مہ برج شرفکبھی اس صف میں در آیا کبھی روندی وہ صفکبھی دریا کے کنارے کبھی صحرا کی طرفکبھی نعرہ تھا کہ صدقے ترے یا شاہِ نجفجتنے مجروح تھے دم ان کے نکل جاتے تھےشیر بھی نامِ علی سن کے دہل جاتے تھے
نخل تھراتے تھے سب گونج رہا تھا جنگلسرکی جاتی تھی زمیں رن کی غضب تھی ہل چلکوند جاتی تھی، سروں پر جو وہ شمشیر اجلمنہ کے بل گرتا تھا کوئی تو کوئی سر کے بلحشر برپا تھا سواروں پہ فرس لوٹتے تھےدو پہ چار، ایک پہ دو، پانچ پہ دس لوٹتے تھے
بڑھ کے فرماتے تھے عباسؔ، زہے عزت و جاہبارک اللہ کی دیتا تھا صدا دلبرِ شاہکہتے تھے ابنِ حسنؔ، واہ حرِ غازی واہشاہ ہر ضرب پہ فرماتے تھے، ماشاء اللہاپنی جاں بازی کا غازی جو صلہ پاتا تھامسکراتا ہوا تسلیم کو جھک جاتا تھا
حیف جھکنے میں لعینوں نے جو فرصت پائیسامنا چھوڑ کے سب فوج عقب سے آئیلاکھ خوں ریز اُدھر، اور اِدھر تنہائیباگ گھوڑے کی پھرانا تھا کہ برچھی کھائیآ گیا موت کے پنجے میں نہ کچھ دیر لگیفرق پر گرز لگا دوش پہ شمشیر لگی
سینہ غربال ہوا، تیر چلے اعدا کےرکھ دیا شیر نے قربوس پہ سر نہوڑا کےعلیؔ اکبر نے یہ حضرت سے کہا چلا کےگر ہو ارشاد تو مہماں کو سنھالوں جا کےخانۂ زیں سے عدم کا سفری گرتا ہےخاک پر گھوڑے سے اب حرِّ جری گرتا ہے
شاہ رونے لگے یہ سنتے ہی مہماں کی خبرہو گئی آنسوؤں سے ریشِ مبارک سب ترعلیؔ اکبر سے کہا تم ابھی ٹھہرو دلبرحُرؔ کی امداد کو ہم جائیں گے اے نورِ نظرکس سے اس وقت کہوں میں جو قلق مجھ پر ہےلاش مہماں کی اٹھاؤں گا کہ حق مجھ پر ہے
عرض کی حضرتِ عباس نے جاتا ہے غلامجوشِ رقت میں کہا شہ نے نہیں اے گلفاممیری الفت میں ہوا قتل حرِ نیک انجامدوست کیسے، جو برے وقت میں ہم آئیں نہ کاماس پہ جب سخت گھڑی ہو گی تو کام آئیں گےلاش کیا قبر میں مہمان کی ہم جائیں گے
اس کے لاشے پہ نہ جائیں، یہ مروت سے ہے دوراس سے ہم شاد ہوئے، وہ بھی تو ہو کچھ مسرورقصرِ خلد اس کو دکھائیں کہ ہوئے عفوِ قصورسرخ رو جاتا ہے دنیا سے وہ خالق کے حضورایسا ذی رتبہ کوئی خلق میں کم نکلے گامیرے مہماں کا مری گود میں دم نکلے گا
یہ سخن کہہ کے چلے رن کو، جنابِ شبیرؔواں گِرا خاک پہ گھوڑے سے، حُرِ با توقیردیکھ کر شاہ کو آتے ہوئے بھاگے بے پیرپہونچے لاشے پہ امامِ دو جہاں وقتِ اخیرچمنِ ہستیِٔ مہماں کو اجڑتے دیکھاایڑیاں خاک پہ زخمی کو رگڑتے دیکھا
گر کے لاشے کے برابر یہ پکارے سرورہائے اے میرے مددگار و معین و یاورگرز کیا تجھ کو لگا ٹوٹ گئی میری کمرگر پڑے گھوڑے سے اور آہ نہ کی ہم کو خبردوست کے ہجر میں کس دوست کو چین آیا ہےکھول دے آنکھوں کو بھائی کہ حسینؔ آیا ہے
وہ رے حُرِّ جری میں تری ہمت کے فدااس کو کہتے ہیں محبت اسے کہتے ہیں وفاہے یہ بیکس ترا شرمندۂ احساں بہ خدابس یہی بھائی بھی کرتے ہیں جو کچھ تو نے کیاحق تعالیٰ چمنِ خلد میں گھر، دے بھائیاس ریاضت کا خدا تجھ کو ثمر دے بھائی
حُرؔ کو چونکا کے حبیبؔ ابنِ مظاہر نے کہاآپ، بیتاب ہیں اے حؔرِ جری ہوش میں آدیکھ دیدارِ جگر بندِ جنابِ زہراؔکوچ در پیش ہے یہ وقت نہیں غفلت کادم رکا ہے تو اشارے سے وصیت کر لےنزع میں نورِ الٰہی کی زیارت کر لے
کسی آقا نے کبھی کی ہے یہ توقیرِ غلامدیکھ تو رحم، ترے واسطے، روتے ہیں امامبھائی فرماتے ہیں شفقت سے شہِ عرش مقاماے خوشا حال خدا سب کا کرے نیک انجامحشر تک خلق میں یہ ذکرِ غم انگیز رہاتو تو بچپن کے غلاموں سے بھی کچھ تیز رہا
نیم وا چشم سے حُر نے، رخِ مولا دیکھازیرِ سر، زانوئے شبیرؔ کا تکیا دیکھامسکرا کر طرفِ عالمِ بالا دیکھاشہ نے فرمایا کہ اے حُرِ جری کیا دیکھاعرض کی حسن رخِ حور نظر آتا ہےفرش سے عرش تلک نور نظر آتا ہے
باغ فردوس دکھاتا ہے مجھے اپنی بہارصاف نہریں ہیں رواں جھوم رہے ہیں اشجارشاخوں سے میری طرف بڑھتے ہیں میوے ہر بارحوریں لاتی ہیں جواہر کے طبق بہرِ نثارہے یہ رضواں کی صدا دھیان کدھر تیرا ہےدیکھ اے شاہ کے مہمان یہ گھر تیرا ہے
مجھ کو لینے چلے آتے ہیں فرشتے یا شاہملک الموت بھی کرتا ہے محبت کی نگاہخلد سے شیرِ خدا نکلے ہیں اللہ اللہلو برآمد ہوئے شبّر بھی پدر کے ہمراہننگے سر احمد مختار کی پیاری آئیدیکھئے آپ کے نانا کی سواری آئی
قبلہ رو کیجئے لاشہ مرا اے قبلۂ دیںپڑھئے یٰسین کہ اب ہے یہ دم باز پسیںکوچ نزدیک ہے، اے باد شہِ عرش نشیںلیجئے تن سے نکلتی ہے مری جانِ حزیںبات بھی اب تو زباں سے نہیں کی جاتی ہےکچھ اڑھا دیجئے مولا، مجھے نیند آتی ہے
کہہ کے یہ گود میں شبیرؔ کے لی انگڑائیآیا ماتھے پہ عرق چہرے پہ زردی چھائیشہ نے فرمایا ہمیں چھوڑ چلے کیوں بھائیچل بسے حُرِّ جری پھر نہ کچھ آواز آئیطائرِ روح نے پرواز کی طوبیٰ کی طرفپتلیاں رہ گئیں پھر کر شہِ والا کی طرف
بس انیسؔ اب یہ دعا مانگ کہ اے ربِّ عبادلکھنؤ کے طبقے کو تو سدا رکھ آبادرونے والے، شہِ والا کے رہیں خلق میں شادان کے سائے میں، برومند ہوں ان کی اولادعشرۂ ماہِ عزا نالہ کشی میں گزرےسال بھر شہ کے غلاموں کو خوشی میں گزرے
۸۴ / ۹۰