بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ

شاہ رونے لگے یہ سنتے ہی مہماں کی خبرہو گئی آنسوؤں سے ریشِ مبارک سب ترعلیؔ اکبر سے کہا تم ابھی ٹھہرو دلبرحُرؔ کی امداد کو ہم جائیں گے اے نورِ نظرکس سے اس وقت کہوں میں جو قلق مجھ پر ہےلاش مہماں کی اٹھاؤں گا کہ حق مجھ پر ہے

About this couplet

This is couplet 123 of 136 in “⁨بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۲۳ / ۱۳۶