بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ

باغ فردوس دکھاتا ہے مجھے اپنی بہارصاف نہریں ہیں رواں جھوم رہے ہیں اشجارشاخوں سے میری طرف بڑھتے ہیں میوے ہر بارحوریں لاتی ہیں جواہر کے طبق بہرِ نثارہے یہ رضواں کی صدا دھیان کدھر تیرا ہےدیکھ اے شاہ کے مہمان یہ گھر تیرا ہے

About this couplet

This is couplet 132 of 136 in “⁨بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۳۲ / ۱۳۶