بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ

بس انیسؔ اب یہ دعا مانگ کہ اے ربِّ عبادلکھنؤ کے طبقے کو تو سدا رکھ آبادرونے والے، شہِ والا کے رہیں خلق میں شادان کے سائے میں، برومند ہوں ان کی اولادعشرۂ ماہِ عزا نالہ کشی میں گزرےسال بھر شہ کے غلاموں کو خوشی میں گزرے

About this couplet

This is couplet 136 of 136 in “⁨بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۳۶ / ۱۳۶