بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ

میں ہوں سردارِ شبابِ چمنِ خلد بریںمیں ہوں خالق کی قسم دوشِ محمد کا مکیںمیں ہوں انگشتر پیغمبر خاتم کا نگیںمجھ سے روشن ہے فلک مجھے سے منور ہے زمیںابھی نظروں سے نہاں نور جو میرا ہو جائےمحفلِ عالمِ امکاں میں اندھیرا ہو جائے

About this couplet

This is couplet 17 of 136 in “⁨بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۷ / ۱۳۶