بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ

زیست ہر شے کی ہے، پانی سے، شجر ہو کہ بشرمجھ سے دیکھا نہ گیا، میں تو سخی کا ہوں پسرمیں نے عباسؔ دلاور سے کہا، گھبرا کرمشکوں والے ہیں کہاں، اونٹ ہیں پانی کے کدھرکرم ساقیٔ کوثر کو دکھا دو بھائیجتنا پانی ہے وہ پیاسوں کو پلا دو بھائی

About this couplet

This is couplet 25 of 136 in “⁨بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۲۵ / ۱۳۶