بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ
کئی معصوم ہیں کمسن جو موئے جاتے ہیںدم اکھڑتا ہے مرا جب انہیں غش آتے ہیںپانی پانی جو وہ کہتے ہیں تو شرماتے ہیںپاس دریا ہے پہ اک بوند نہیں پاتے ہیںسچ ہے غربت کی عجب شام و سحر ہوتی ہےتیسرا دن ہے، کہ فاقوں میں بسر ہوتی ہے
About this couplet
This is couplet 30 of 136 in “بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۳۰ / ۱۳۶