بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ
کیا کسی حور کا، دکھلا دیا، حضرت نے جمالملک گیا سایۂ طوبیٰ کہ جو ایسا ہے نہالقصرِ یاقوت میں پہونچا، جو ترا رنگ ہے لالکون سے میوۂ شیریں پہ ٹپکتی ہے رالدفعتہً حقِّ نمک کو بھی فراموش کیاکیا تجھے بادۂ تسنیم نے بے ہوش کیا
About this couplet
This is couplet 37 of 136 in “بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۳۷ / ۱۳۶