بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ

آیا کس شوق سے کعبے کی طرف چھوڑ کے دَیرکوئی حضرت کا یگانہ بھی نہ سمجھا اسے غیرحق نے لکھ دی تھی جو تقدیر میں فردوس کی سیرفتنہ و شر سے بچا، ہو گیا انجام بخیرذکرِ خیر اس کے موے پر بھی ہوئے جاتے ہیںعملِ نیک ہر اک وقت میں کام آتے ہیں

About this couplet

This is couplet 5 of 136 in “⁨بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۵ / ۱۳۶