بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ

خالِ رخسار نہیںِ گوئے سعادت ہے یہمجھ سے مجرم کے لئے مہر شفاعت ہے یہہوں جو آشفتۂ گیسو تو عبارت ہے یہبخدا سلسلۂ بخششِ امت ہے یہشب معراجِ رسولِ دو جہاں سمجھا ہوںاس کے ہر تار کو میں رشتۂ جاں سمجھا ہوں

About this couplet

This is couplet 51 of 136 in “⁨بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۵۱ / ۱۳۶