بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ
کیا دو تین رسالوں نے تعاقب ہر چندحرؔ کا ہاتھ آنا تو کیسا نہ ملی گردِ سمندکہتے تھے شرم سے وہ لے کے جو دوڑے تھے کمندیہ چھلاوا تھا کہ آندھی، یہ فرس تھا کہ پرندکیا سبک سوئے چمن بادِ بہاری پہونچیہم یہیں رہ گئے واں حرؔ کی سواری پہونچی
About this couplet
This is couplet 63 of 136 in “بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۶۳ / ۱۳۶