بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ
تجھ پہ مخفی نہیں ہفتم سے جو کچھ ہے مرا حالراہیں ہر سمت کی روکے ہوئے ہیں اہلِ ضلالقحط پانی کا ہے اس دشت میں گندم کا ہے کالنانِ جو کا بھی ہے ملنا کسی قریے میں محالسب کو ایذا عوضِ آب و غدا ملتی ہےدودھ اصغرؔ کو نہ عابدؔ کو دوا ملتی ہے
About this couplet
This is couplet 84 of 136 in “بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۸۴ / ۱۳۶