بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ
نیزۂ حُرؔ کی سناں پر نہ ٹھہرتی تھی نگاہتھا یہ ظاہر کہ نکالے ہے زباں مارِ سیاہقبضۂ تیغ پہ رکھے تھی سر عجز پناہآفتابی وہ سپر، جس سے خجل گردۂ ماہقدر اندازوں کو جانوں کے ادھر لالے تھےتیر ترکش میں نہ تھے آگ کے پرکالے تھے
About this couplet
This is couplet 88 of 136 in “بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۸۸ / ۱۳۶