بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ

رخِ روشن کو مرے تکتے ہو کیا حسرت سےمَل کے آیا ہوں منہ اپنا قدمِ حضرت سےنور وہ ہے جسے دیکھیں، نظرِ رغبت سےوائے وہ لوگ، جو محروم ہیں اس دولت سےمجھکو بھی دیکھ کے بیدار نہیں ہوتے ہوہے غضب آنکھیں تو کھولے ہو، مگر سوتے ہو

About this couplet

This is couplet 95 of 136 in “⁨بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۹۵ / ۱۳۶