آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے

بولا وہ کیا ہے پھر اوروں کے نہ آنے کا سببعرض کی ایک ہی رسی میں ہیں جکڑے ہوئے سبخاک پہ گرتی ہے جب بنتِ شہنشاہِ عربشور ہوتا ہے اسیروں میں کہ ہے ہے زینبؔہوش میں آن کے، بھائی کو وہ جب روتی ہےدیر تک قیدیوں میں سینہ زنی ہوتی ہے

About this couplet

This is couplet 17 of 40 in “⁨آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۷ / ۴۰